101 views
میت پر پھول کی چادر ڈالنا:
(۹۸)سوال:ہمارے علاقے میں میت کے جنازے پر پھول کی چادر ثواب سمجھ کر ڈالتے ہیں اس کی کوئی اصل ہے یا نہیں؟
فقط: والسلام
المستفتی: ڈاکٹر وسیم الحق، منگلور
asked Jun 6, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:اس کی کوئی اصل نہیں ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور نہ آپ کے اصحابؓ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ دین کے قول وعمل سے اس کی تائید ملتی ہے۔ اگر یہ صورت میت کے لئے مفید ہوتی، تو یہ حضرات اس سے دریغ نہ کرتے۔ لہٰذاجنازہ پر پھول کی چادر ثواب سمجھ ڈالنا مکروہ تحریمی ہے۔(۱)

(۱) حضرت شاہ اسحاق دہلوي، مسائل أربعین: ص: ۴۵۔
وفي حق النساء بالحریر والإبریسم والمعصفر والمزعفر ویکرہ للرجال ذلک۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلوٰۃ: الباب الحادي والعشرون: في الجنائز، الفصل الثالث في التکفین‘‘: ج ۱، ص: ۲۲۲)
وعن عمران بن حصین أن نبي اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا أرکب الأرجوان ولا ألبس المعصفر ولا ألبس القمیص المکفف بالحریر، وقال: ألا وطیب الرجال ریح لا لون لہ وطیب النساء لون لا ریح لہ۔ رواہ أبو داود۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ’’کتاب اللباس: الفصل الثاني‘‘: ج ۲، ص: ۳۷۵، رقم: ۴۳۵۴)
کل مباح یؤدي إلی زعم الجہال سیئۃ أمرا ووجوبہ فہو مکروہ۔ (تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ، ’’مسائل وفوائد شتیٰ من الحظر والإباحۃ‘‘: ج ۲، ص: ۳۳۳)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص401

answered Jun 6, 2023 by Darul Ifta
...