78 views
ایک نئی مسجد ہے جس میں امام اور مؤذن صاحب کی  مہینہ  کا تنخواہ کا انتظام محلہ کہ لوگوں سے کیا جاتا ہے۔ساتھ ہی ساتھ اس مسجد میں بچے کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کا بھی انتظام ہے،۔بچے  دینی تعلیم کے لئے اس مسجد میں   گھنٹے دو گھنٹہ کے لئے ہی آتے ہیں ، اور یہاں پر بچے کے لئے کھانے پینے اور رہنے کا انتظام نہیں ہے۔جس  میں بطور مدرس اسی مسجد کے امام اور مؤذن صاحب انجام دیتے ہیں۔
1-کیا زکوۃ کی رقم سے یہ مدرسہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں؟
2-کیا بطور مدرس امام اور مؤذن صاحب کی تنخواہ اس زکوۃ کی رقم سے دے سکتے ہیں یا نہیں؟
مہربانی کرکے رہنمائی فرمائے-
asked Jun 17, 2023 in زکوۃ / صدقہ و فطرہ by razawasim

1 Answer

Ref. No. 2379/44-3604

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  مذکورہ صورت میں اصل مسجد ہے، اور اسی کے زیر انتظام مکتب ہے، مکتب ذیلی ہے، مسجد اور ذیلی مکتب میں زکوٰۃ کی رقم تملیک کے بعد بھی لگانی درست نہیں ہے۔

(الفتاوی الھندیۃ: (کتاب الزکاۃ، 188/1، ط: رشیدیہ)

لايجوز أن يبنی بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولايجوز أن يكفن بها ميت، ولايقضى بها دين الميت، كذا في التبيين".

(الدر المختار: (291/3، ط: زکریا)

ویُشْتَرَطُ أنْ یَکُوْنَ الصَّرْفُ تَمْلِیْکاً لَا ابَاحَةً ... فَلَا یَکْفِيْ فِیْہا الْاطْعَامُ الاّ بِطَرِیْقِ التَّمْلِیْکِ۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jun 22, 2023 by Darul Ifta
...