140 views
السلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ
مستحق زکات کو کس طرح تلاش کرنا چاہئے؟ اور اگر کسی کے بارے میں یہ غالب گمان ہو کہ مستحق زکات ہے اور پھر زکات کی رقم دینے کے بعد یہ پتا چلے کہ وہ مستحق نہیں تھا تو کیا زکات واپس ادا کرنا پڑے گا؟
اور اگر کوئی کرایہ کے مکان میں رہتا ہے یا اپنے خود کے گھر میں رہتا ہے تو کیا اس مہینے کے اخراجات کو قرض سمجھا جائے گا یعنی اخراجات کے بقدر کیا اس کے پیسے سے منہا کیا جائے گا یا اسے  بھی شمار کیا جائے گا جب اس کا حساب لگائے جائے کہ کیا وہ صاحب نصاب ہے یا نہیں؟
asked Aug 18, 2023 in زکوۃ / صدقہ و فطرہ by محمد راجا

1 Answer

Ref. No. 2491/45-3801

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  (1) ظاہری وضعداری سے اگر کوئی مستحق زکوۃ معلوم ہو تو اس کو زکوۃ کی رقم دینی جائز ہے، پھر اگر بعد میں معلوم ہواکہ جس کوزکوۃ کی رقم دی  تھی وہ غیر مستحق  تھا تو بھی زکوۃ ادا ہوجائے گی؛ دوبارہ زکوۃ دینی لازم نہیں ہے۔ (2) صاحب نصاب کا جس دن زکوۃ کا سال پورا ہو، اس دن کی تمام ملکیت کا حساب ہوگا، لہذا زکوۃ کے سال کے آخری دن جتنی رقم کسی کو قرض دی ہوئی ہو، یا بینک میں جمع ہو، یا ماہانہ خرچ کے لئے گھر میں رکھی ہوئی ہو سب کی مجموعی رقم  پر زکوۃ کا حساب ہوگا۔ یعنی ماہانہ اخراجات کو منہا نہیں کیاجائے گا بلکہ ان کی بھی زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔

 دفع بتحر ) لمن يظنه مصرفًا ( فبان أنه عبده أو مكاتبه أو حربي ولو مستأمنًا أعادها ) لما مر ( وإن بان غناه أو كونه ذميًا أو أنه أبوه أو ابنه أو امرأته أو هاشمي لا) يعيد؛ لأنه أتى بما في وسعه، حتى لو دفع بلا تحر لم يجز إن أخطأ". (فتاوی شامی كتاب الزكوة، ج: 2، ص: 253، ط: سعيد)

"إذا شك وتحرى فوقع في أكبر رأيه أنه محل الصدقة فدفع إليه أو سأل منه فدفع أو رآه في صف الفقراء فدفع فإن ظهر أنه محل الصدقة جاز بالإجماع، وكذا إن لم يظهر حاله عنده....وإذا دفعها، ولم يخطر بباله أنه مصرف أم لا فهو على الجواز إلا إذا تبين أنه غير مصرف، وإذا دفعها إليه، وهو شاك، ولم يتحر أو تحرى، ولم يظهر له أنه مصرف أو غلب على ظنه أنه ليس بمصرف فهو على الفساد إلا إذا تبين أنه مصرف، هكذا في التبيين". (فتاوی ہندیہ)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Aug 22, 2023 by Darul Ifta
...