66 views
عمرہ کے لیے جاتے وقت گھر سے بالوں میں موگرے کے پھولوں کا گجرا لگائیں ، پھر بعد میں عمرہ کی نیت کر لیے اور پھول نکالنا بھول گئے۔ عمرہ کے پورے ارکان ادا کرنے کے بعد یاد آیا تو اب کیا حکم ہے؟
asked Aug 31, 2023 in حج و عمرہ by Bilal Shaikh
recategorized Aug 31, 2023 by Bilal Shaikh

1 Answer

Ref. No. 2546/45-3885

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ عمرہ  کے احرام سے پہلے  ایسی خوشبو لگانا جائز ہے جس کا عین باقی نہ رہے، اگر خوشبو کا اثر بعد میں بھی باقی رہے تو اس سے  عمرہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا،   لیکن اگر ایسی خوشبو لگائی جس کا عین باقی رہے تو یہ ممنوع ہوگا۔   اس لئے  جو پھولوں کا گجرابالوں میں  لگایا گیا اور پھر اس کو عمرہ کی نیت کے وقت  بھی نکالا نہیں گیا توعین خوشبو کا استعمال  حالت احرام  میں پایا گیا جو ممنوع  ہے، اس لئے  دم دینا لازم ہوگا۔

"قال: ولايلبس ثوباً مصبوغاً بورس، ولا زعفران، ولا عصفر؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «لايلبس المحرم ثوباً مسه زعفران، ولا ورس إلا أن يكون غسيلاً". البناية شرح الهداية (4/ 186):
"(قوله: وتطيب) أطلقه فشمل ما تبقى عينه بعد كالمسك والغالية، وكره محمد ما تبقى عينه، والأصح عدم الكراهة كما في البرهان. وقال في البحر: وسن استعمال الطيب في بدنه قيد بالبدن إذ لايجوز التطيب في الثوب مما يبقى عينه على قول الكل على إحدى الروايتين عنهما، قالوا: وبه نأخذ اهـ.
وقال الكمال: المقصود من استنان الطيب عند الإحرام حصول الارتفاق به حالة المنع منه فهو على مثال السحور للصوم إلا أن هذا القدر يحصل بما في البدن فيغني عن تجويزه أي تجويز ما تبقى عينه في الثوب إذ لم يقصد كمال الارتفاق في حال الإحرام؛ لأن الحاج الشعث التفل، وقد قيل: يجوز في الثوب أيضاً على قولهما اهـ". درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 219
):

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Sep 9, 2023 by Darul Ifta
...