30 views
کیا فرماتے ہیں علماء دین متین اس مسئلہ کے بابت جو مندرجہ ذیل ہے
ہمارے علاقہ میں رواج ہے کہ ایک فریق (رب المال)
دوسرے فریق زمیندار (جانور پالنے والے ) ہوتا ہے
پہلا فریق دوسرے فریق کو اپنے پیسوں سے جانور خریدتا ہے جبکہ زمیندار اس کو پالتا ہے۔ معاہدہ مابین فریقین  خوراک اور ادویہ کا خرچہ نصف نصف جبکہ پالنے کی خدمت بذمہ زمیندار ہوتا ہے۔ جبکہ گوبر اور دودھ زمیندار لیتا ہے اور بیچنے کی صورت میں منافع یا نقصان نصف نصف ہوتا ہے۔
صورۃ مسئولہ میں ناجائز صورتوں کی نشاندھی کریں ۔
نیز اگر فریق اول کے پیسے ہو اور زمیندار جانور پالتا ہو تو شرائط کے ساتھ معاملہ جائز ہوگا۔ وضاحت کریں۔
 المستفتی
صاحبزادہ ضیاء الحسن
asked Sep 27, 2023 in ربوٰ وسود/انشورنس by Rehmulbari

1 Answer

Ref. No. 253/45-4092

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔    جانوروں کو شرکت پر دینے کی جو صورت آپ نے بیان کی ہے  اس میں شرعی طور پر کئی مفاسد ہیں اس وجہ سے علماء نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے۔ در اصل شرعی ضابطہ یہ ہے کہ آدمی اپنے عمل کی اجرت دوسرے سے نہیں لے سکتاہے، اسی طرح اپنے کئے ہوئے کام میں سے اپنی مزدوری نہیں لے سکتاہے جیسے گیہوں پیس کر آٹے میں سے بطور اجرت کے لینا جائز نہیں ہے۔  اسی طرح جانور پالنے کی مزدوری میں سے جانور لینا درست نہیں ہےنیز یہ بھی اصول ہے کہ  جو شریک ہوگا وہ  اجیر نہیں بن سکتاہے۔ جبکہ صورت مذکورہ میں وہ شریک بھی ہے اور اجیر بھی ہے، اور اپنے عمل میں سے مزدوری بھی  وصول کررہاہے۔ ان مفاسد کی بناء پر جانور پال پر دینا جائز نہیں ہے۔

جواز کی آسان شکل یہ ہے کہ (1) فریق اول جانور خرید کر پالنے کے لئے فریق ثانی کو ماہانہ یا روزانہ کی مزدوری پر دیدےاور پالنے کی اجرت طے کرلے۔ (اس صورت میں دودھ اور بچے کا مالک فریق اول ہی ہوگا)۔ (2) فریق اول اپنے پیسوں سے جانور خریدے اور پھرفریق ثانی  کے ہاتھ اس کا آدھا حصہ  آدھی قیمت پر بیچ دے ،پھر پیسے معاف کردے،تو  دونوں کے درمیان  وہ جانور مشترک ہوجائے گا، اب  اس جانورسے  جو دودھ یا بچے حاصل ہوں گے دونوں برابرکے حصہ دارہوں گے۔ (3) دونوں فریق پیسے ملا کرجانور خریدیں، ایسی صورت میں دونوں اپنی مالیت کے بقدر دودھ اور بچے میں شریک ہوں گے ۔ البتہ اگر کسی نے مذکورہ معاملہ کرلیا  تو  حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو جائز قراردیاہے۔ (امداد الفتاوی۔3/342) 

"رجل دفع بقرةً إلى رجل بالعلف مناصفةً، وهي التي تسمى بالفارسية "كاونيم سوو" بأن دفع على أن ما يحصل من اللبن والسمن بينهما نصفان، فهذا فاسد، والحادث كله لصاحب البقرة، والإجارة فاسدة". (خلاصة الفتاوی:۳/۱۱4۔کتاب الإجارة، الجنس الثالث في الدواب) "وَلَا خِلَافَ في شَرِكَةِ الْمِلْكِ أَنَّ الزِّيَادَةَ فيها تَكُونُ على قَدْرِ الْمَالِ حتى لو شَرَطَ الشَّرِيكَانِ في مِلْكِ مَاشِيَةٍ لِأَحَدِهِمَا فَضْلًا من أَوْلَادِهَا وَأَلْبَانِهَا لم تَجُزْ بِالْإِجْمَاعِ". (بدائع الصنائع میں ہے: (6/6۲۔کتاب الشرکة، فَصْلٌ وَأَمَّا بَيَانُ شَرَائِطِ جَوَازِ هذه الْأَنْوَاعِ۔ط/سعید)

"دفع بقرةً إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافًا فالإجارة فاسدة ... والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه، ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما". ( الھندیۃ : 4/۵۰4، کتاب الإجارة، الفصل الثالث في قفيز الطحان)

"بِخِلَافِ الزَّوَائِدِ فَإِنَّهَا تَتَوَلَّدُ مِنْ الْمِلْكِ فَإِنَّمَا تَتَوَلَّدُ بِقَدْرِ الْمِلْكِ". ((المبسوط للسرخسي:۱۵/6، کتاب القسمة،  الناشر:دار المعرفة – بيروت)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Dec 7, 2023 by Darul Ifta
...