354 views
شیعوں کے بائیکاٹ کے بعد
سنی لڑکوں کے نکاح میں موجود شیعہ لڑکیوں کا کیا حکم ہے؟
(۲۹)سوال:منگلور میں جمعیت العباس نے ایک جلسہ عام کرایا جس میں مذکورہ برادری کے علاوہ دیگر مسلمانوں نے بھی شرکت کی تھی، اس جلسہ میں یہ طے پایا تھا کہ شیعہ حضرات سے کسی قسم کا تعلق، مثلاً: شادی بیاہ مرنے جینے میں نہیں رکھنا چاہئے اور نہ ان حضرات سے دعا سلام کا تعلق رکھنا چاہئے اور اس جلسہ عام میں منگلور کے محلہ بندر ٹول میں رہنے والے عباسی برادری کے ان لوگوں سے علیحدگی کا اعلان کیا گیا تھا، جو شیعہ مسلک اختیار کئے ہوئے ہیں، جن حضرات سے علیحدگی کا اعلان کیا گیا ہے ان کی لڑکیوں اور لڑکوں کے رشتے ایک عرصہ پہلے جوالا پور اہل سنت والجماعت برادری میں ہوئے تھے، جب یہ رشتے ہوئے تھے اس وقت سنی حضرات کو یہ علم نہیں تھا کہ جن حضرات سے علیحدگی کا اعلان کیا گیا ہے یہ شیعہ ہیں۔ اس کا پتہ اس جلسہ میں ہوا اعلان ہونے کے باوجود بھی ان کے رشتہ دار جوالاپور والے ان کے ہر کام میں شریک ہو رہے ہیں، ان شیعہ حضرات کے لڑکے ولڑکیاں جو شادی شدہ ہیں اور سنی حضرات کے یہاں بیاہی ہیں اپنے شیعہ عقیدے پر قائم ہیں اور ان کے خاوند اپنے کو سنی کہتے ہیں، صورت مذکورہ میں کیا یہ لڑکے سنی ہیں یا شیعہ ہوگئے ہیں اور ان کی بیویاں شیعہ ہی رہیں یا سنی بن گئیں، اگر ان لڑکوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ جب آپ کی بیویاں اپنا عقیدہ نہیں چھوڑتیں، تو تم انہیں طلاق دیدو، تو یہ لڑکے اس کے لئے بھی تیار نہیں جن حضرات سے علیحدگی کا اعلان کیا گیا ہے وہ ان سے اپنا رشتہ بدستور قائم کئے ہوئے ہیں۔ صورت مذکورہ میں کیا یہ نکاح صحیح ہیں یا غلط ہیں اور اب اس صورت میں کیا کرنا چاہئے؟ اور یہ بھی فرمائیے کہ عام مسلمان سنی جماعت کو جنھوں نے ان کا سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے انھیں ان لڑکوں سے علیحدگی کا اعلان کر دینا چاہئے یا نہیں، یہ لڑکیاں طلاق حاصل کرنے کے لئے تیار ہیں، مگر اپنا عقیدہ بدلنے کو تیار نہیں۔ شرعی حکم سے رہنمائی فرمائیں؟
فقط: والسلام
المستفتی: رئیس احمد، جوالا پور
asked Oct 2, 2023 in مذاہب اربعہ اور تقلید by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:شیعوں کا وہ فرقہ جو ضروریات دین میں سے کسی امر کا منکر ہے(۱) اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں الوہیت کا قائل ہے یا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے بارے میں غلط فی الوحی کا عقیدہ رکھتا ہے(۲) یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں قذف یعنی الزام وبہتان کا عقیدہ رکھتا ہے، تو وہ اسلام سے خارج ہے؛ لیکن جو شیعہ فضیلت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قائل ہیں وہ مسلمان ہیں، لیکن مبتدع ہیں، ایسے شیعہ افراد کی لڑکیوں سے سنی مرد کا نکاح جائز ہے اور جو افراد خارج اسلام ہوں ان کی لڑکیوں سے سنی کا نکاح جائز نہیں ہوگا اور جو حضرات شیعہ تفضیلیہ ہیں ان سے سنی لڑکی کا نکاح اس لئے مناسب نہیں ہوگا کہ اختلاف عقائد کی بنا پر مقاصد نکاح کے فوت ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ مذکورہ صورت میں جن شیعہ لڑکیوں کا نکاح سنی مسلمان لڑکوں سے ہوا ہے ان نکاحوں کو صحیح کہا جائے گا اور اس کی وجہ سے جن سنی مسلمانوں نے لڑکیوں سے نکاح کیا ہے ان کو شیعہ نہیں کہا جائے گا، جب کہ وہ اپنے عقائد سنیہ پر قائم ہو ں اور چونکہ یہ نکاح پہلے ہوچکے ہیں؛ اس لئے مذکورہ علیحدگی کے ضمن میں وہ مرد وعورتیں نہیں ان کو بھی اس اعلان میں شمار کرنا صحیح نہ ہوگا، ہر وہ طریقہ جو باعث فتنہ بنتا ہے اس سے رکنا اور روکنا ضروری ہے۔

(۱) وإن أنکر بعض ما علم من الدین ضرورۃ کفر بہا۔ (ابن عابدین، الدرالمختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، ’’باب الإمامۃ‘‘:ج ۲، ص: ۳۰۰)
(۲) بخلاف من أدعی أن علیاً إلہ وأن جبریل غلط لأنہ لیس عن شبہۃ واستفراغ وسع في الاجتہاد بل محض ہوی۔ (’’أیضاً‘‘)
بخلاف ما إذا کان یفضل علیا أو یسب الصحابۃؓ فإنہ مبتدع لا کافر۔ (ابن عابدین۔ الدر المختار مع رد المحتار: ج ۳، ص: ۱۴۶)

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص284

answered Oct 2, 2023 by Darul Ifta
...