47 views
بسم اللہ الرحمن الرحیم

           کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ہم تین بھائ اور دو بہن ہیں ہمارے والد صاحب نے ایک جگہ خریدی اور  تعمیر کا خرچ ہم تین بھائیوسےلیا  
اور بعد میں ہم تینوں کو اس گھر میں تین حصے کر کے تینوں کو مکمل اختیار دے دیا
ہمارے منجلے بھائی کا انتقال ہو گیا ۱۰ سال پہلے ھماری لا علمی کی وجہ سے ہم نے میراث تقسیم نہیں کی
ان کی بیوی اور ایک بیٹا  ۱۱ سال کا ہے جو ماں کے ساتھ رہتا ہے اور انکی دوسری شادی ہوگئی ہےاسکی وراثت کیسے تقسیم کی جائے۔ گھر ایک ساتھ ہی ہے تینوں کا۔ماں باپ با حیات ہیں
asked Oct 15, 2023 in احکام میت / وراثت و وصیت by Amjad ali

1 Answer

Ref. No. 2632/45-3997

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔گھرکا ایک حصہ جو مرحوم بھائی کا تھا اسی طرح   اس گھر کے علاوہ جو کچھ بھی مرحوم کی ملکیت میں تھا  اس کو 24 حصوں میں اس طرح تقسیم کریں گے کہ  چار چار حصے والدین میں سے ہر ایک کو اور تین حصے مرحوم کی  بیوی کو اور 13 حصےاس کے  بیٹے کو ملیں گے۔   اگر بیٹا پورا مکان رکھنا چاہے تو مرحوم کے حصہ کا جو مکان ہے اس حصہ کی قیمت کا اندازہ کرکے دیگر ورثاء کو ان کے حصہ کی قیمت دیدے  تو  کل حصہ کا مالک ہوجائے گا۔ اور اگر دیگر ورثاء  اپنا حصہ معاف کردیں اور بیٹے کو دیدیں تو اس کی بھی گنجائش ہے، اور اس سلسلہ میں کسی کو کوئی زبردستی کا حق نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Oct 30, 2023 by Darul Ifta
...