51 views
زید مرحوم نے اپنے بعد ساڑھے سات بگھہ زمین اور چار بیٹے اور تین بیٹی چھوڑی ، تین بیٹیوں  میں سے ایک کا نکاح باپ کی زندگی میں ہوگیا تھا بعد میں دو بیٹیوں کا نکاح تین بیٹوں نے کرایا کیوں کہ ماں نے یہ کہ دیا تھا کہ تمہارے باپ کی جاگیر میں سے تم تینوں کا قرض ادا کردیں گے اس وقت فروخت نہیں ہوئی اب کافی وقت کے بعد تینوں بھائیوں کا کہنا ہے کہ ہم زمین بیچ کر پہلے قرضہ لیںگے بعد میں تقسیم کی جائے گی تو کیا انکا اسطرح کہنا درست ہے؟
asked Oct 18, 2023 in احکام میت / وراثت و وصیت by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 2640/45-4044

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  اگر ماں کے کہنے پر دیگر لوگوں کے اتفاق رائے سے بھائیوں نے اپنی بہنوں کے نکاح پر خرچ کیا ہے تو میراث کی تقسیم میں پہلے قرض کی رقم ادا کی جائے گی اور پھر شرعی حساب سے  میراث کی تقسیم عمل میں آئے گی۔

تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل ترکہ کا آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوی کو ملے گا پھر باقی کو اولاد میں اس طرح تقسیم کریں گے کہ لڑکوں کو دوہرا اور لڑکیوں کو اکہرا حصہ ملے گا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Nov 11, 2023 by Darul Ifta
...