40 views
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
ایک فتوی میں میں نے shellac کے بارے میں یہ پڑھا ہے کہ اس کو شہد پر قیاس کر لیا گیا ہے اور اس کے جواز کے لئے عدم استقذار شرط ہے، یعنی گھن محسوس نہیں ہونا چاہئے۔
اس سلسلے میں مجھے یہ پوچھنا تھا کہ کیا نفس lac کے بارے میں سوچ کر فیصلہ کرنا ہے جیسا کہ انسان خالص شہد کو کھا سکتا ہے اور اسے دیکھ کر گھن  محسوس نہیں ہوتا ہے یا اس خوراک کو دیکھنا ہے جو ہمارے سامنے ہے جس میں  shellac ہے، اس لئے کہ ہو سکتا ہے اول الذکر سے گھن محسوس ہو لیکن آخر الذکر سے گھن محسوس نہ ہو۔
asked Dec 13, 2023 in اسلامی عقائد by محمد راجا

1 Answer

Ref. No. 2722/45-4466

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ وہ اسباب جن کی بناء پر شریعت کسی چیز کو حرام قرار دیتی ہے، وہ پانچ ہیں، ضرر، سکر، خبث، کرامت، نجاست۔

خبث سے مراد یہ ہے کہ ایک سلیم الفطرت انسان اس کو طبعی طور پر ناپسند کرے، اور اس کا مزاج اس سے گھن کھائے اور طبیعت نفرت کرے، اگر کوئی شیئ مضرت یا خبث کی وجہ سے حرام ہو، مگر مجموعہ میں جاکر اس کا خبث دور ہو جائے اور مضرت نہ رہے اور گھن محسوس نہ ہو تو اس کا استعمال جائز ہوگا۔آپ نے جس شیلاک  کا ذکر کیا ہے یہ لیک نامی کیڑے سےنکالا جاتا ہے، اس شیلاک میں اگر کوئی خبث نہیں ہے تواس کا استعمال جائز ہوگا ، اس کو اگر کسی کھانے کی چیز میں ملایا جائے تو عدم استقذا شرط ہے اور اگر خارجی استعمال ہو تواس کے لئے عدم استقذاء شرط نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Feb 11 by Darul Ifta
...