35 views
میں  ایک 20 سال کی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ، لیکن اسے گھر میں اسکا نکاح 24 میں کرنے کا ارادہ ہے۔ تو میں  4 سال بات کر ہی  نہیں  سکتا اور اگر بات کروں  تو نکاح نہ ہونے کی وجہ سے دل میں بے چینی رہتی  ہے۔ اس لئے  ہم نے سوچا کی شادی کر لیجائے۔ اب میرا سوال ہے  1. ہم نے دو بالغ لڑکے  تیّار کرلیے جو لڑکی کے تایا کے بیٹے ہیں۔ اب نکاح کے عمل میں بس 4 لوگ ہوں گے، اب اگر دو گواہوں میں سے ایک ایجاب اور قبول کروانے کا حق بھی ادا کرے تو کیا نکاح ہوگا 2.اگر لڑکا اور لڑکی ہی ایک دوسرے  سے ایجاب اور قبو ل کرلیں ان دو گواہو کی موجود گی میں تو کیا یہ  طریقہ کار صحیح ہے ؟۔
asked Jan 16 in نکاح و شادی by Mohammed moin

1 Answer

Ref. No. 2781/45-4363

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر بالغ لڑکا وبالغ لڑکی دو بالغ مرد گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرلیں تو شرعاً نکاح منعقد ہو جاتا ہے، تاہم اگر لڑکی نے غیر کفو میں نکاح کیا تو لڑکی کے والد کو نکاح فسخ کرانے کا اختیار ہے تاہم اولاد کو ایسے کام کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے جو والدین یا خاندان کے لئے بد نامی یا شرمندگی کا باعث ہو۔

عن سماك بن حرب قال: جاء رجل الي علی فقال امرأة أنا وليها تزوجت بغير اذن، فقال علي رضي الله عنه: تنظر فيماصنعت ان كانت تزوجت كفوا أجز نا ذلك لها وان كانت تزوجت من ليس لها كفوا جعلنا ذلك اليك‘‘ (سنن دار قطني)

ولا ينعقد نكاح المسلمين الا بحضور شاهدين عاقلين بالغين مسلمين الخ أما اشتراط الشهادة فلقوله عليه السلام لا نكاح الا بشهود‘‘ (فتح القدير: ج 3،ص: 199، زكريا)

وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضائها وان لم يعقد عليها ولی بكرا كانت أو ثبيا عند أبي حنيفة وأبي يوسف في ظاهر الرواية‘‘ (الهداية: ج 2، ص: 335)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jan 25 by Darul Ifta
...