48 views
مسبوق ضم سورۃ کب کرے؟
(۱) سوال: خالد کو امام کے ساتھ چوتھی رکعت ملی تو جب اپنی تین رکعت پوری کرنے کے لیے کھڑا ہوگا تو شروع کی دو رکعت میں قرأت کرے گا، سورہ فاتحہ پڑھے گا اور سورہ ضم کرے گا یا آخری دو رکعت میں؟
فقط: والسلام
المستفتی: محمد احمد،سہارنپور
asked Jan 18 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اس صورت میں اس کو چاہئے کہ کھڑے ہوتے ہی پہلی دو رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورہ ضم کرے۔(۱)

(۱) ویقضي أول صلاتہ في حق قراء ۃ، وآخرہا في حق تشہد؛ فمدرک رکعۃ من غیر فجر یأتي برکعتین بفاتحۃ وسورۃ وتشہد بینہما، وبرابعۃ الرباعي بفاتحۃ فقط ولا یقعد قبلہا۔ (الحصکفي، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الإمامۃ، مطلب فیما لو أتی بالرکوع والسجود أو بہما مع الإمام الخ‘‘: ج ۲، ص: ۳۴۷، زکریا دیوبند)
ولو أدرک رکعۃ من الرباعیۃ فعلیہ أن یقضي رکعۃ یقرأ فیہا الفاتحۃ والسورۃ، ویتشہد ویقضي رکعۃ أخریٰ کذلک، ولا یتشہد، وفي الثالثۃ بالخیار، والقراء ۃ أفضل، ہکذا في الخلاصۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب الصلاۃ: الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل السابع: في المسبوق واللاحق‘‘: ج ۱، ص: ۱۴۹، زکریا دیوبند)

 

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج6 ص31

answered Jan 18 by Darul Ifta
...