23 views
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

آبادی سے متعلق ہمیں پڑھایا جاتا ہے ''ہم دو ہمارے دو''
 یعنی 2 سے زیاد اولاد نہیں کرنی، ساتھ ہی ساتھ بہت ساری رکاوٹیں یا مانع حمل طریقہ پڑھایا جاتا ہے کہ کس طرح حمل کو روکا جائے یا پھر اسے شروعات کے دن یا مہینوں میں ضائع کر دیا جائے

 اور اس میں وجہ  یہ بتائی جاتی ہے کہ دنیا میں وسائل محدود ہے، آبادی لگاتار اتنی تیز سے بڑھے گی تو کھانے کو رہنے کو اور قدرتی وسائل استمال کرنے کے لیے کم پڑ جائیں گے، ماں باپ دو ہی بچے کریں گے تو اُنکے مر جانے کے بعد اُسکی جگہ دو ہی آئیں گے، جس کا متبادل صفر ہوگا

 اور بہت ساری اسی طرح کی الٹی سیدھی باتیں دماغ میں ڈالی جاتی ہے
برائے مہربانی ان اعتراضات کا تشفی بخش جواب دے دیں __جزاک اللہ خیراً
asked Feb 2 in اسلامی عقائد by Aatikah

1 Answer

Ref. No. 2820/45-4423

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شرعا اولاد کی کثرت پسندیدہ ہے۔ احادیث میں زیادہ بچے جننے والی عورت سے نکاح کرنے کی طرف رغبت دلائی گئی ہے۔

عن معقل بن يسار قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تزوجوا الودود الولود فانی مکاثر بکم الامم - و قید بھذین لأن الولود إذا لم تكن ودودا لم يرغب الزوج فيها ، و الودود إذا لم تكن ولودا لم يحصل المطلوب وھو تكثير الأمة بكثرة التوالد ای مفاخر بکم سائر الأمم لكثرة أتباعى (مرقاة المفاتيح شرح مشكوة المصابیح ، کتاب النکاح 5/2047 دارالفکر)

رزق اور دیگر وسائل کے پیدا کرنے کی ذمہ داری الللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے: وما من دابۃ فی الارض الاعلى الله رزقها ويعلم مستقرها ومستودعها كل في كتاب مبين' (سور ہود 6) اسلئے معاشی خوف سے مانع حمل ذرائع کا استعمال شرعا جائز نہیں ہے۔  

ولا تقتلوا اولادكم خشية املاق نحن نرزقهم واياكم إن قتلهم كان خطئا كبيرا (سورة الاسراء ٣١ )

اگر بچہ کے اعضاء بن چکے ہوں جس کی مدت ایکسوبیس دن ہیں تو ایسی صورت میں حمل کو ساقط کرنا یا کروانا قتل نفس کی وجہ سے ناجائز ہے اور ایک سو بین دن سے پہلے حمل ساقط کرانا مکرده و نا پسندیدہ ہے ۔

وفى الذخیر لو أرادت إلقاء الماء بعد وصوله إلى الرحم قالوا ان مضت مدۃ ینفخ فیہ الروح لایباح لھا وقبلہ اختلف المشائخ فیہ والنفخ مقدر بمائة وعشر ين يوما با لحدیث کمافی الشامی۔ العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقہ کا لشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق یجوز (الفتاوی الھندیۃ 5/456)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Feb 6 by Darul Ifta
...