45 views
السلام علیکم، مفتیان کرام، فقہ حنفی کی ایک اصولی عبارت کی توضیح مطلوب ہے،
اصول کرخی، میں قاعدہ نمبر ۲۸ میں لکھا ہے،، ترجمہ،، ہر وہ آیت جو ہمارے اصحاب کے قول کے خلاف ہو تو اسکے بارے میں سمجھا جائےگا کہ وہ منسوخ ہے یا کسی اور دلیل کو اسپر  ترجیح حاصل ہے اور بہتر یہ ہے کہ اسمیں ایسی تاویل کی جائے، کہ اس آیت میں، اور ہمارے اصحاب کے قول میں موافقت پیدا ہوجائے،
اس عبارت کی توضیح کریں، اور ماجور ہوں؟
asked Aug 6, 2018 in فقہ by md shahid jamaie

1 Answer

Ref. No. 39/1143

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   ہمارے اصحاب کا اگر کوئی قول کسی آیت  کے خلاف ہے تو ظاہر ہے اس کا مطلب یہ  نہیں لیا جاسکتا ہے کہ ان ماہرین کی نظر یہاں تک نہیں پہونچی ہوگی  بلکہ یہ سمجھا جائے گا کہ ان کو اس آیت کے منسوخ ہونے کا علم حاصل ہوگیا تھا اس لئے انھوں نے آیت پر عمل نہیں کیا اور ان کا قول آیت کے بظاہر خلاف ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے وہ آیت کے خلاف نہیں ہے ۔  یا بعض مرتبہ ایسا ہوا کہ دو آیتوں میں تعارض ہوگیا اورانکا تاریخ نزول کا ہمیں علم نہیں تو اب ان میں سے کس پر عمل کیا جائے اس میں ہمارے اصحاب کا قول  یقینا الگ ہوگا اور بظاہر آیت کے خلاف  معلوم ہوگا حالانکہ جب ان آیتوں پر عمل کرنا تاریخ نزول کا صحیح علم نہ ہونے کی  وجہ سے ممکن نہیں رہا تو کسی اور قول کا قائل ہونا امر لابدی ہے تاکہ اس سلسلہ میں دیگر نصوص  کو ترجیح حاصل ہو۔ جب اس طرح سے دوسری نصوص کو ترجیح دی جائے گی تو اس کے نتیجے میں احناف کے قول اور آیت میں تعارض ختم ہوگا اور موافقت کی راہ خود بخود نکل آئے گی۔

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Sep 8, 2018 by Darul Ifta
...