20 views
السلام علیکم ورحمت اللہ ۔   مفتیان کرام مجھے  ایک مسٸلہ کا حل درکار ہے۔  مسٸلہ یہ ھے کہ مجھے ہر وقت بکثرت طلاق کے وسوسے آتے رہتے ہیں ۔ تو  ایک مرتبہ میری دونوں ہونٹ بند تھے  ۔ اور میں پان کھانے میں تھا ۔  اس وقت لفظ ” دی“ دیدیا ” لفظ منہ سے نکلنے میں  شک ہے ۔  ۔
 اگر کوٸی شخص ان ألفاظ بول دے اور بیوی کے بارے کہا  یا نہیں  اسمیں شک آجاٸں ۔ توکیا حکم ھے ۔  نیز بتاٸیں کہ ان الفاظ کناٸی ھے یا صریح  جبکہ اسکی اضافت بیوی کی طرف صراحة نہیں اور مذاکرہ  اور سوال جواب کے ماتحت نہیں
asked Mar 15 in فقہ by علی

1 Answer

Ref. No. 40/000

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ایسی صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ یقین سے طلاق کا لفظ بول دیا تو طلاق واقع ھوگی ورنہ نہیں ہوگی۔ وساوس پر دھیان نہ دیں۔    واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Apr 7 by Darul Ifta
...