112 views
السلام علیکم،
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص جو اپنی والدہ اور بالغ بہنوں اور تقریبا دس سالہ بھائی کے ساتھ سوائے صحبت و وطی کے بہت کچھ کر چکا ہو، یعنی شہوت سے ان کے پستان بلاحائل کپڑا وغیرہ کے دبانا، مقعد پر ذکر رگڑنا،فرج کو مس کرنا ،اور پھر باتھ روم جا کر مشت زنی کرنا ، کبھی بہن کے ہاتھ میں ہی انزال کر دینا وغیرہ،
اب سوال یہ ہے کہ:
1-مذکورہ شخص کے والدین کا نکاح سلامت ہے یا نہیں؟
2- اس کا کفارہ کیا ہے؟
3-کیا مذکورہ شخص اپنی اولاد کا نکاح اپنی متاثرہ بہنوں اور بھائی کی اولاد کے ساتھ کر سکتا ہے یا نہیں؟
اب وہ شخص کئ سالوں سے الحمدللہ پکا تائب ہے۔
والسلام
asked Feb 24 in نکاح و شادی by Muhammad Nasir

1 Answer

Ref. No. 41/1044

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بہن و بھائی کے ساتھ جو کچھ کیا وہ سخت  گناہ ہے، البتہ اس پر توبہ کے علاوہ کچھ بھی کفارہ وغیرہ واجب  نہیں ہے۔ والدہ کے ساتھ ایسی حرکت انتہائی سنگین ہے،  اور اس کی وجہ سے ماں باپ کا نکاح ختم ہوچکا ہے۔ اور اس کی ماں اس کے باپ پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی ہے۔ اپنی اولاد کا نکاح اپنی ان بہنوں کی اولاد سے درست نہیں  ہوگا۔

 واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 2 by Darul Ifta
...