13 views
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کربوغہ شریف میں لوگ اعتکاف کے لیے بیٹھتے ہیں جن میں سے بعض لوگ پشاور وغیرہ کے ہوتے ہیں تو یہ لوگ پشاور کے تاریخ کے ساتھ بیٹھے ہیں اور اس کی تاریخ کے ساتھ اٹھتے بھی ہے حالانکہ کربوغہ کے مفتی صاحب حکومت کے ساتھ رمضان اور عید کا اعلان کرتے ہیں البتہ اطراف میں لوگ پشاور کے ساتھ عید اور رمضان کرتے ہیں. یعنی پشاور والوں کی رمضان اور عید حکومت سے پہلے ہوتی ہے اس اعتکاف کا کیا حکم ہے. بینوا توجروا
asked May 6 in اعتکاف by Rafaqatullah

1 Answer

Ref. No. 894/41-16B

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بشرط صحت سوال پشاور والوں کو اپنی ہی تاریخ کے اعتبار سے ایک دن پہلے ہی کربوغہ میں اعتکاف کے لئے بیٹھنا چاہئے، اور اختتام کربوغہ کی تاریخ کے اعتبار سے  کرنا چاہئے احتراما للوقت و موافقا للمسلمین۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ پشاور والوں کو کربوغہ میں نفلی اعتکاف کی نیت کرنی چاہئے، اور اگر اعتکاف مسنون ہی کرنا چاہیں تو اپنے علاقوں میں کریں۔

وقالا: يتشبه) بالمصلين ای احتراما للوقت ۔۔۔ قوله كالصوم) أي في مثل الحائض إذا طهرت في رمضان، فإنها تمسك تشبها بالصائم لحرمة الشهر ثم تقضي (الدرالمختار 2/253)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jun 7 by Darul Ifta
...