19 views
جناب مسئلہ کچھ اس طرح ہے کی علاقے کی مسجد شروعات میں بہت ہی تھوڑی جگہ میں تھی مثال کے طور پر 100 گز زمین پر جسکی وجہ سے مسجد میں امام اور مقتدیوں کے کھڑے ہونے کی جگہ میں صرف 5 6 انچ کا ہی فاصلا ہوا کرتا تھا متلب یہ کی امام اور مقتدی ایک ہی سف میں کھڑے ہوتے تھے امام کو محض 5 6 انچ ہی آگے رکھا جاتا تھا مگر اب مسجد نے  پیچھے کی طرف اور جگہ خرید لی ہے اور مسجد پچے سے بڑی ہو  کر نئی تعمیر ہوئی اب جس جگہ میں پہلے اوّل سف بچھتی تھی اس جگہ کو دو کمروں اور امام کے ممبر اور محراب میں تقسیم کر دیا ہے ان دو کمروں میں ایک جنازے کے لیے ہے اور دوسرا اذان دینے کے لیے اب غرض یہ ہے کہ کیا ے کمرے ابھی بھی مسجد کا حصہ مانے جائینگے کیوکی ایک طویل عرصے تک اس حصے کو مسجد تسلیم کیا گیا ہے اور نماز بھی ادا ہوئی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس حصے میں جانے سے اعتکاف رہیگا یہ نہیں۔
asked May 8 in اعتکاف by Zohran Jilani

1 Answer

Ref. No. 896/41-14B

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جس زمین پر ایک مرتبہ مسجد بن جائے وہ زمین کی آخری تہہ  اور آسمان تک قیامت تک کے لئے مسجد ہی رہتی ہے۔ لہذا مذکورہ کمرے اب بھی مسجد ہی ہیں۔ اس حصہ میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا، اذان اور جنازہ کے لئے ان کا استعمال درست نہیں ہے،۔

(ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) (الدرالمختار 4/358)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jun 7 by Darul Ifta
...