21 views
والد کے فوت ہونے کے بعد ان کی میراث کو تقسیم کیے بغیر بھائیوں نے کچھ کاروبار شروع کیے ان میں سے کسی کا حصہ مقرر نہیں کیا  نہ یہ کہا گیاکسی کو کہ تم مالک ہو یا نوکر اور ہرایک کام کرتا رہا اور بعض ان میں کام بھی نہیں کرتے رہے اب وہ جدا ہونا چاہتے ہیں تو وہ کس طرح حصوں کو تقسیم کریں؟
asked Jun 13 in تجارت و ملازمت by MuhammadAaqib

1 Answer

Ref. No. 926/41-47B

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  والد صاحب نے بوقت وفات جو جائداد چھوڑی   وہی ترکہ ہے، اور تقسیم میراث سے قبل بھائیوں نے کاروبار کرکے جو منافع کمائے اس پر انہیں کا حق ہے، دیگر ورثہ اس کے مستحق  نہیں ہیں۔ والد  کے وفات کے وقت جس قدر جائداد موجود تھی اسی کو ورثہ میں تقسیم کیا جائے گا، اور جو کسی وارث نے کمایا وہ اس کا اپنا ہے؛ اسے منہا کرکے تقسیمِ ترکہ عمل میں آئےگی۔

ولو تصرف احد الورثۃ فی الترکۃ المشترکۃ وربح فالربح للمتصرف وحدہ (فتاوی ھندیۃ 2/346)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jun 15 by Darul Ifta
...