16 views
السلام علیکم و رحمة الله وبركاته. (1) تجارت میں کسی رشتہ دار سے دو لاکھ شراکت میں لیا  اور ہمارا بھی تقریبا دس لاکھ تک کا پیسہ لگا.شراکت دار سے یہ معاہدہ ہوا کے نفع کا دس فیصد انکو ماہانہ دینگے اور اگر نقصان ہوا تو برابر کے شریک ہونگے. اسطرح کے معملہ میں کوئ شرعا نقص ہےتو آگاہ فرمائے (2) اب تجارت ڈوب گئ اور چند ہزار کا سامان رہ گیا.. چونکہ شراکت دار ضرورت مند ہے تو ہم ماہانہ کچھ رقم انکو پہنچارہے ہیں کے یہ ہدیہ ہے، اگر آگے تجارت پھر چلی تو اگر انکے حق میں فائدہ آئے تو واپس کریں ورنہ معاف ہے. کیا یہ سود میں شامل ہے (3). اگرچہ انکے سارے دو لاکھ میں سے چند ہزار بھی نہیں بچے، لیکن رشتہ داری کی وجہ سے ارادہ ہیکہ انکے دو لاکھ ہدیہ کی شکل میں واپس کرینگے. اسطرح کرنے میں شرعا کو غلطی ہورہی ہے کیا ہمکو آگاہ فرمائیں. جزاکم الله
asked Sep 23 in تجارت و ملازمت by Mohammed

1 Answer

Ref. No. 1161/42-396

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ (1) معاملہ کی جو صورت آپ نے بیان کی ہے یہ مضاربت کی صورت ہے جو شرعا جائز ہے۔ (2) تجارت کے ڈوب جانے کے بعد شراکت کا معاملہ ختم ہوگیا، اب جو رقم آپ ان کو دے رہے  ہیں چونکہ یہ رقم بلا کسی شرط کے ہے اس لئے یہ آپ کی طرف سے ہدیہ ہے اور آپ کے لئے ایسا کرنا شرعا مستحسن ہے (3) اگر آپ ہدیہ کے طور پر ان کے دو لاکھ  واپس کرتے ہیں تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


 

answered Sep 27 by Darul Ifta
...