24 views
28 دسمبر  سے 31 تک حیض آیا۔پھر 4 جنوری  سے خون جاری ہوا  جو 14جنوری کو تقریبا بند ہوا لیکن تھوڑا تھوڑا روزانہ ہوتا رہا اور بالکل پاکی حاصل نہیں ہوئی۔ اب پھر 26 جنوری کو تھوڑا خون شروع ہوگیا۔ تو اس صورت میں حیض کونسی تاریخ میں مانیں گے۔ ہمیشہ کی عادت ایسی ہے کہ تین چار ماہ بعد خون آتاہے اور پھر تقریبا پورا مہینہ جاری رہتا ہے۔ کبھی کم کبھی زیادہ۔ پچھلی مرتبہ حیض 2 ستمبر سے 8 تک آیا وہ بھی اس لئے کہ داکٹر سے دوا لے رہے تھے، اب دوا ئی لینا بند کردی ہے۔ پلیز واضح کریں کہ حیں کن تاریخوں میں ہوگا اور کن میں استحاضہ؟
asked Jan 30 in طہارت / وضو و غسل by azhad1

1 Answer

Ref. No. 1293/42-650

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ حیض کی کم سے کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے، اور پاکی کی کم سے کم مدت  پندرہ دن ہے اور زیادہ کی کوئی مدت نہیں۔ اس لئے جب حیض 28 دسمبر سے شروع ہوا اور چار دن کے بعد بند ہوگیا اور پھر دس دن حیض کے پورے ہونے سے پہلے جاری ہوگیا تو یہ دس دن تک حیض ہی شمار ہوگا یعنی 6 جنوری تک کے تمام ایام  حیض کے شمار ہوں گے اور اس کے بعد استحاضہ کے ایام شمار ہوں گے۔  6 جنوری سے 26 تک پاکی کا زمانہ ہوگا، پھر 26 جنوری سے جو خون جاری ہوا وہ دس دن تک حیض شمار ہوگا اور دس دن سے جو زیادہ ہوگا وہ استحاضہ  شمار ہوگا۔    

وأقل الحيض ثلاثة أيام" بلياليها "وأوسطه خمسة" أيام "وأكثره عشرة" بلياليها وليس الشرط دوامه فانقطاعه في مدته كنزوله، والاستحاضة دم نقص عن ثلاثة أيام أو زاد على عشرة في الحيض وأقل الطهر الفاصل بين الحيضتين خمسة عشر يوما ولا حد لأكثره إلا لمن بلغت مستحاضة (مراقی الفلاح 1/60) باب الحیض والنفاس والاستحاضۃ)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Feb 3 by Darul Ifta
...