47 views
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے یہاں لوگ شادی بیاہ میں لوگ برادری کو کھانا کھلاتے ہیں اس میں گوشت والےسے فی کوئنٹل گوشت کی قیمت طے کرلیتے ہیں جب گوشت والا بکری ذبح کرنے کے لئے لے کر آتا ہے تو اسی میں سے عمدہ قسم کی بکریاں چھانٹ کر(بغیر خریدے ھوۓ) عقیقہ کی دعا پڑھ کر بچوں کا عقیقہ کرتے ہیں پھر بکری کا گوشت وزن کرکے گوشت کی قیمت اور اور سری پاۓ اور چرم کی الگ الگ قیمت ادا کرتے ہیں دریافت طلب امر یہ ہیکہ درج بالا صورت کے مطابق عقیقہ کرنا کیسا ہے اس صورت میں بچے کا عقیقہ ہو گا یا نہیں
قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل ومفصل جواب عنایت فرمائیں
asked Feb 22 in ذبیحہ / قربانی و عقیقہ by md shahid jamaie

1 Answer

Ref. No. 1326/42-706

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جس جانور کو عقیقہ میں ذبح کرنا ہواس کو پورا خریدنا ضروری ہے۔ صرف گوشت خرید کر ذبح کرنے سے عقیقہ درست نہیں ہوگا۔ اس لئے مذکورہ طریقہ درست نہیں ہے۔

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ : يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه، ويحلق رأسه ،ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ،ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي،.وهي شاة تصلح للأضحية، تذبح للذكر والأنثى ،سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا، واتخاذ دعوة أو لا، )شامی 6/336)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Feb 27 by Darul Ifta
...