7 views
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ زید اور بکر کے آپس میں کچھ اختلافات ہیں جس کے پیشنظر زید کے حمایتی اکثر بکر کے خاندان کے بزرگوں اور خود بکر وغیرہ پر طرح طرح کے الزامات اور بہتانات لگاتے ہیں ۔۔حالیہ دنوں میں زید کی طرف کے کچھ لوگوں نے ایک بھری مجلس میں بکر کے خاندان کے لوگوں کی موجودگی میں اعلانیہ الزامات اور بہتانات لگائے جس کو بکر کے بھائی/ بیٹے نے موبائل فون پر اس غرض سے ریکارڈ کیا کہ ایک تو اپنا کسی تہمت سے بچاؤ کیا جا سکے اوردوسرے اس کی تصدیق بکر سے اور خاندان کے بڑوں سے کی جائے جن الزامات اور بہتانات کا اکثر ان کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔واضح رہے کہ یہ کوئی رازدارانہ خفیہ مجلس میں نہیں ہوا بلکہ کھلے عام اور اونچی آواز میں اعلان کی طرح۔۔ اب آیا اس کی ریکارڈنگ جو کی گئی ہے وہ شرعی اعتبار سے جائز ہے کہ نہیں۔۔
asked Mar 24 in آداب و اخلاق by Mashhal

1 Answer

Ref. No. 1389/42-811

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔مذکورہ مقصد کے تحت ریکارڈنگ کرنا درست ہے تاہم اس طرح کی باتوں کو ریکارڈ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ غصہ اور تنازع  میں کچھ باتیں زبان سے نکل جاتی ہیں اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ سب ختم ہوجاتی ہیں، وقت ان سب باتوں کے لئے بہترین مرہم ثابت ہوتاہے ، اس لئے  ان کو بار بار تازہ کرنا درست نہیں ہوتاہے۔ اسی طرح ریکارڈنگ سے وہ غلطیاں اور  پرانی یادیں  تازہ ہوجاتی ہیں۔ اس لئے اس طرح کی ریکارڈنگ مناسب نہیں ۔ دونوں اللہ کے لئے آپس میں ایک دوسرے کو معاف کریں اور مصالحت کرلیں اور جو ہوا اس کو بھول کر ایک نئی شروعات کریں۔ اللہ تعالی ہم سب کو آپسی تنازعات سے محفوظ رکھے۔ آمین

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 29 by Darul Ifta
...