6 views
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته، دو بھائیوں  نے بانڈ  پیپر پر لکھا کے ہم دونوں اپنی زمین فلاں شخش کو عطیہ کرتے ہیں اس شرط پر کے وہ اسکو اپنی رہائش کیلئے استعمال کرے یا دکان ڈالے. اگے لکھا کے ہم دونوں اور ہمارے ورثاء اسکے پابند رہینگے اور کسی کا بھی عذر شرعی و قانونی ناقابل مسموع ہوگا. اس پرچھی پر دونوں بھائیوں کی دستخط ہے اور گواہوں کی بھی. مرور زمانہ کیساتھ یہ دونوں بھائ اور جنکے نام زمین عطیہ کی گئ وہ سب انتقال کرچکے.(1) کیا اسطرح عطیہ درست ہے (2) ان الفاظ کا لکھنا درست ہے کے اب کوئ شرعی عذر قابل مسموع نہ ہوگا (3) اس زمین کے اب کون وارث ہونگے
asked Mar 24 in متفرقات by Mohammed

1 Answer

Ref. No. 1394/42-809

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔مذکورہ الفاظ کے ساتھ اپنی مملوکہ چیز عطیہ کرنا وھبہ کرنا درست ہے اور جس شخص کو ان دونوں بھائیوں نے زمین ہبہ کردی ، موھوب لہ اس کا مالک ہوگیا، اس میں وراثت جاری ہوگی اور موہوب لہ کی اولاد کو اس میں شرعی طور پر وراثت کی تقسیم کرلینی چاہئے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 29 by Darul Ifta
...