13 views
السلام وعلیکم میرا نام محمد زکریا ہے میں حیدرآباد سے ہوں
میں نے دوسری شادی کی ہے پہلی بیوی خودکشی کی دھمکی دیتی ہے اگر آپ اور ایک شادی کرینگے تو میں خودکشی کرلونگیی
میں نے اپنی پہلی بیوی کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کے میں نے دوسری شادی نہیں کی ہے
میں نے اپنی بیوی کے رشتے داروں
کے سوال
کسی سے آپ کے تعلقاتِ ہے کیا ؟
ایسا سوال کرنے پر میں نے
بولاا قرآن پر ہاتھ رکھ کر اللہ کی قسم کھاتا ہوں
میرے کسی سے تعلقات نہیں ہے
کیا مجھے قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا
asked Mar 26 in عائلی مسائل by MOHD ZAKARIYA

1 Answer

Ref. No. 1400/42-813

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ بیوی کا خودکشی کی دھمکی دیناغلط ہے۔ البتہ آپ نے جو قسم کھائی ہے وہ جھوٹی قسم ہے جس سے بچناضروری تھا، اس پر اللہ سے معافی مانگٰیں توبہ کریں۔ تاہم اس قسم  سے کوئی کفارہ ذمہ میں لازم نہیں ہوتا۔

(قوله تغمسه في الإثم ثم النار) بيان لما في صيغة فعول من المبالغة ح (قوله وهي كبيرة مطلقا) أي اقتطع بها حق مسلم أو لا، وهذا رد على قول البحر ينبغي أن تكون كبيرة إذا اقتطع بها مال مسلم أو آذاه، وصغيرة إن لم يترتب عليها مفسدة، فقد نازعه في النهر بأنه مخالف لإطلاق حديث البخاري «الكبائر الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس»  (شامی، کتاب الایمان 3/705)

والأصل عندنا في اليمين الغموس: أنه آثم، وعليه التوبة، والتوبة كفارة. وهكذا في كل يمين في عقدها معصية أن تلزمه الكفارة وهي التوبة. وأما الكفارة التي تلزم في المال، فهى لا تلزم بالحنث؛ لأنه بالحنث يأثم، والحنث نفسه إثم؛ لذلك لم يجز إلا بالحنث. (تفسیر الماتریدی: تاویلات اھل السنۃ، الباب 225، ج2ص144)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Mar 30 by Darul Ifta
...