401 views
۔(۱)۔عہد نبویﷺ کے دور میں راستوں کی افادیت اور کشادگی کے بارے میں کسی حدیث پاک کا حوالہ ۔۔(۲)جو مردے قبرستان کے بجائے جان بوجھ کر یا غفلت سے راستے کی درج شدہ زمین میں دفنائے گئے ہیں شریعت کے حوالے سے ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟۳۔اور ان کے ورثاء جن کی زمینیں بلکل اس راستے کے متصل ہیں جس میں ان کے مردے دفن ہیں ۔اب ان پر اس کی کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟کیونکہ ان قبروں کی وجہ سے رفاع عام کا یہ راستہ منزل مقصود تک لے جانا پیچیدہ معاملہ بن گیا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ُمردوں کی وجہ سے زِندوں کا گزر بسر زبردست مشکلات سے دوچار ہورہاہے۔۴۔مقبوضہ اہل اسلام کی زمین جس میں کہیں دہائی قبل مردے دفنائے گئے تھے ۔اس کو گاڑیوں کیلئے بطور اڈا استعمال کرنا شرعا ًٍکیسا ہے؟
asked Jun 28, 2021 in آداب و اخلاق by zafar abas

1 Answer

Ref. No. 1482/42-942

الجواب وباللہ التوفیق:

(۱)موجودہ دور میں راستہ سے متعلق مستقل نظام وجود میں آچکا ہے،راستے کی اہمیت کا یہ شعور جو انسانوں میں اب عام ہوا ہے اسلام نے اس جانب بہت پہلے توجہ دلادی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں راستوں کی افادیت اور کشادگی کے سلسلے میں امام ترمذی ؒ نے ایک روایت نقل کی ہے: راستے کی کم از کم چوڑائی سات ہاتھ یعنی دس فٹ ہے۔ ”اجعلوالطریق سبعۃ اذرع“ (الترمذی: ج ۳، ص:۰۳، رقم: ۵۵۳۱) (۲/۳) مذکورہ دونوں اجزاء مجمل ہیں، ان میں وضاحت نہیں ہے کہ جو مردے کو غفلت یا جان بوجھ کر درج شدہ راستے کی زمین میں دفنایے گیے ہیں وہ قبریں راستے میں کب بنی ہیں؟ قبریں جس جگہ پر بنی ہیں وہ قبرستان کے حق میں موقوفہ ہے یا  حکومتی رکارڈ میں وہ راستے ہی کے لیے درج ہے کسی کی مملوکہ زمین ہے؟ البتہ فقہاء نے کتابوں میں صراحت کی ہے کہ قبروں کو روند نا اور اس پر چلنا جائز نہیں ہے، اگر قبر بہت پرانی ہوگئی ہو پھر بھی اس کے اوپر چلنے سے احتیاط کرنی چاہئے۔ ”یکرہ المشي في طریق ظن أنہ محدث حتی إذا لم یصل إلی قبرہ إلا بوطئ قبرترکہ“ (الدر المختار ج۲ص ۵۴۲  .((۴) قبرستا ن کی زمین اگر موقوفہ ہو کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو تو اس زمین پر کسی کے لئے تصرف کرنا شرعا جائز نہیں ہے؛ بلکہ جس مقصدکے لئے وقف ہے اسی مقصد میں استعمال کرنا لازم ہے، اور اگر کئی دہائی قبل مردے دفنائے گئے جس سے قبروں کے نشانات مٹ چکے ہوں اور اس میں مدفون اجسام مٹی بن چکے ہیں تو اس میں نئے مردوں کی تدفین کی جائے اور اگر تدفین کی حاجت نہیں رہی تو اس زمین کو کسی ایسے مصرف میں استعمال کیا جائے جو وقف ہی کہلائے مثلا مدرسہ،مسجد،عید گاہ یا جنازہ گاہ،وغیرہ بنا کر وقف کردیا جائے نیز اگر قبرستان کے وقف ہونے کا کوئی واضح ثبوت نہ ہو تو عام میت کا اس میں بلا روک ٹوک دفن ہوتے رہنا ہی اس کے وقف ہونے کا قرینہ شمار کیا جائے گا، کفایت المفتی میں مزید اس کی وضاحت ہے: مسجد کی طرح قبرستا ن میں بھی عام اموات کا بلا روک ٹوک دفن ہونا اس کے وقف ہونے کے لئے کافی ہے،(کفایت المفتی: ج:۷، ص:۲۱۲) نیز ذکر کردہ عبارتوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اگر اس زمین میں لوگ بلا روک ٹوک اپنے مردوں کو دفنا رہے تھے تو یہ وقف کی جائداد شمار ہوگی اس لئے اس میں گاڑیوں کے لئے اسٹینڈ وغیرہ بنانا جائز نہیں ہے۔

”فإن قلت: ھل یجوز أن تبنی علی قبور أہل المسلمین؟ قلت:قال ابن القاسم: لو ان مقبرۃ من مقا بر المسلین عفت فبنی قوم علیھا مسجد الم أر بذلک بأسا، وذلک لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمین لدفن موتاھم لا یجوز لأحد أن یملکھا، فإذا درست واستغنی عن الدفن فیھا جاز صرفھا إلی المسجد لأن المسجد أیضاً وقف من أوقاف المسلین لا یجوز تملکہ لأحد“ (عمدۃ القاری: ج ۶، ص: ۳۷۴)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jul 7, 2021 by Darul Ifta
...