221 views
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں
مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص انگریزی بال کاٹتا ہے اور ڈاڑھی بھی کاٹتا ہے اب وہ قربانی کے جانور میں حصہ لینا چاہتا ہے تو اس کا قربانی کے جانور میں حصہ لینا جائز ہے یا نہیں اسی طریقے سے اگر اس نے حصہ لےلیا تو اب دوسرے لوگ جو قربانی میں حصے دار ہیں ان کی قربانی پر کوئی فرق پڑے گا یا نہیں
نوٹ: اس کے آمدنی کا صرف یہی ذریعہ ہے کوئی اور ذریعہ نہیں ہے
asked Jul 3, 2021 in ذبیحہ / قربانی و عقیقہ by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 1491/43-1313

الجواب وباللہ التوفیق:۔ داڑھی مونڈنے پریا ایک مشت سے کم کرنے پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ لیکن بال کاٹنے یا سر مونڈنے  کی اجرت جائز ہے۔ اس لئے ایسا شخص قربانی کے جانور میں اگر حصہ لیتاہے تو کوئی حرج نہیں ہے ، حلال کمائی کے ساتھ شرکت مان کر تمام شرکاء کی قربانی درست ہوگی۔  البتہ اگر کسی کا کام محض  داڑھی تراشنا ہو اور پوری کمائی اس کی یہی ہو اور وہ اس ناجائز آمدنی کے ساتھ قربانی کے جانور میں شرکت کرے تو بھی بعض علماء نے گنجائش دی ہے تاہم ایسے شخص کو شریک نہ کیاجائے یہی احوط ہے، اور اگرشریک  کرلیا ہے  تو اس شخص سمیت سب کی قربانی درست ہوجائے گی۔ اگر شریک کرتے وقت یقینی طور پر معلوم نہ ہوکہ اس کی رقم حرام ہے تو بھی باقی شرکاء کی قربانی درست ہوجائے گی۔ 

ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل أو شيء من اللهو ولا على الحداء وقراءة الشعر ولا غيره ولا أجر في ذلك، وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد، لأنه معصية ولهو ولعب (البنایۃ علی الھدایۃ اجارۃ المشاع 10/183)۔ ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا (المبسوط للسرخسی، باب الاجارۃ الفاسدۃ 16/38) (ولو خلط السلطان المال المغصوب بمالہ ملکہ فتحب الزکاۃ ویورث عنہ) لان الخلط استہلاک اذا لم یمکن تمییزہ عند امام ابی حنیفہ (شامی، باب زکوۃ الغنم 2/290)

وان مات  احدالسبعۃ المشترکین فی البدنۃ وقال الورثۃ اذبحو عنہ وعنکم صح عن الکل استحسانا  لقصد القربۃ من الکل ولو ذبحوھا بلا اذن الورثۃ لم یجزھم لان بعضھا لم یقع قربۃ وان کان شریک الستۃ نصرانیا  او مریدا اللحم لم یجز عن واحد منہم  لان الاراقۃ لا تتجزا ھدایہ لما مر۔ وقولہ وان کان شریک الستۃ نصرانیا الخ وکذا اذا  کان عبدا او مدبرا یرید الاضحیۃ لان نیتہ باطلۃ لانہ لیس من اھل ھذہ القربۃ فکان نصیبہ لحما فمنع الجواز اصلا بدائع۔(شامی، کتاب الاضحیۃ 6/326) زکاۃ المال الحلال من مال حرام ذکر فی الوھبانیۃ انہ یجزئ عندالبعض۔(شامی، باب زکوۃ الغنم 2/291)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Nov 4, 2021 by Darul Ifta
...