40 views
بعض لوگ بقر عید کےدن جانور کو بنا سنوارتے ہیں سجاتے ہیں اسکو نہلاکر گلے میں پھول مالا ڈالتے ہیں اور بعض تو گھنگرو بھی پاؤں میں ڈالتے ہیں پھر اسکو گلیوں میں گھماتے ہیں تو کیا یہ عمل ریاکاری اور دکھاوے میں شمار ہوگا اور کیا اس سے قربانی پر کچھ فرق پڑے گا؟؟
asked Jul 14 in ذبیحہ / قربانی و عقیقہ by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 1509/42-988

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قربانی کے جانور کو سجانے و سنوارنے میں آج کل خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے یقینا اس میں پیسے اور وقت دونوں کا ضیاع ہے۔ اور اس میں فخرومباہات ، ریاکاری اور دوسروں پر اپنا رعب ڈالنے کی کوشش بھی ہے، اس لئے اس عمل سے احتراز ضروری ہے۔ البتہ اس سے قربانی پر فرق نہیں آئے گا، قربانی درست ہوگی اور گوشت کھانا بھی درست ہوگا۔ نیز اگر صرف جانور کے احترام کے طور پر  اظہارِخوشی کے لئے پھولوں کا ایک معمولی سا ہار ڈال دیا جائے  تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی  ہے گرچہ اس تکلف کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من تشبہ بقوم فہو منہم۔ (سنن أبي داؤد، کتاب اللباس / باب في لبس الشہرۃ ۲؍۵۵۹ رقم: ۴۰۳۱ دار الفکر بیروت، مشکاۃ المصابیح، کتاب اللباس / الفصل الثاني ۲؍۳۷۵)
قال القاري: أي من شبّہ نفسہ بالکفار مثلاً في اللباس وغیرہ، أو بالفساق أو الفجار، أو بأہل التصوف والصلحاء الأبرار ’’فہو منہم‘‘: أي في الإثم أو الخیر عند اللّٰہ تعالیٰ … الخ۔ (بذل المجہود، کتاب اللباس / باب في لبس الشہرۃ ۱۲؍۵۹ مکتبۃ دار البشائر الإسلامیۃ، وکذا في مرقاۃ المفاتیح، کتاب اللباس / الفصل الثاني ۸؍۲۵۵ رقم: ۴۳۴۷ رشیدیۃ، وکذا في فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ۱۱؍۵۷۴۳ رقم: ۸۵۹۳ نزار مصطفیٰ الباز ریاض( البحث الثانی: النہي عن خاتم الحدید وغیرہ مخصوص بالخاتم أو شامل لسائر الحلي، منہا فلم أر نصا فیہ في کلام الفقہاء إلا أن الحدیث وکلام الفقہاء یرشد أن إلی عدم الاختصاص لأن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: مالي أری علیک حلیۃ أہل النار؟ وقال: مالي أری منک ریح الأصنام، فدل ذٰلک علی أنہ غیر مخصوص بالخاتم؛ بل یشمل کل حلیۃ من الحدید أو الشبہ النحاس والصفر الخ۔ (إعلاء السنن، کتاب الحظر والإباحۃ / باب خاتم الحدید وغیرہ ۱۷؍۳۳۰ المکتبۃ الإمدادیۃ مکۃ المکرمۃ)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Aug 2 by Darul Ifta
...