181 views
السلام علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ
میں کیسی بھی انسان کے بارے مے بغض کینہ  نہیں رکھتا لیکن میرے ساتھ کام کرنے والے ایک مسلمان اور دو ہندو نے مجھے تکلیف دی ہے تو میں اُن تینوں کے لیے بددعا کرتاہوں اُن تینوں سے جنتا کام ہو اتنا ہی بات کرتا ہو اُن سے ہنسی مذاق نہیں کرتا تو کیا یے میرا عمل صحیح ہے؟
asked Jan 14, 2022 in آداب و اخلاق by Amin

1 Answer

Ref. No. 177/43-1518

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جن لوگوں نےدھوکہ دیا اور تکلیف دی ان کے لئے  بد دعا  کرنے سے آپ کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ اس لئے بہتر ہے کہ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کردیں  اور تکلیف پر صبر کریں۔ تکلیف پر صبر کرنا ان سے انتقام لینے کا بہترین ہتھیار ہے ۔ تاہم اگر آئندہ دوبارہ تکلیف پہونچنے کا اندیشہ ہو تو ان سے  بات چیت کم رکھیں اور احتیاط برتیں ، تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ آپ کو ہمت دے۔

فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل ولاتستعجل لھم (سورۃ الاحقاف 35)

وافوض امری الی اللہ  ان اللہ بصیر بالعباد (سورۃ الغافر 44)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jan 22, 2022 by Darul Ifta
...