128 views
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ حضرت مفتی صاحب مروجہ قرآن خوانی میں جو قرآن پاک کی تلاوت ہوتی ہے کیا اس کا ثواب مردہ تک پہنچتا ہے یا نہیں اس کے بارے میں ذرا وضاحت فرمائیں اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس میں ہم  حکمت چلے جاتے ہیں حضرت کیا اس میں حکمت لگانا چاہیے جزاک اللہ خیرا ....محمد مجاہد الاسلام رانچی جھارکھنڈ
asked Jan 22, 2022 in بدعات و منکرات by Mojahid

1 Answer

Ref. No. 1791/43-1531

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قرآن پاک کی تلاوت پر قاری کو ثواب ملتاہے اور ہر حرف پر دس نیکیاں اور اس سے زیادہ ملنے کی احادیث میں صراحت آئی ہے،  البتہ شرط یہ ہے کہ قراءت قرآن کا مقصد اللہ کی خوشنودی ہو، ورنہ آدمی ثواب سے محروم رہے گا۔ جب کوئی بندہ اخلاص کے ساتھ تلاوت کرے تو اس کو جو ثواب حاصل ہوا اس کو دوسروں کوبھی پہونچاسکتاہے۔ لیکن اگر ریاکاری وغیرہ کسی  وجہ سے اس کو خود ثواب حاصل نہیں ہوا تو دوسروں کو ایصال ثواب کیسے کرسکتاہے، اس لئے آج کل کی مروجہ قرآن خوانی میں اس کا اہتمام  ہو کہ لوگوں سے انفرادی طور پر قرآن خوانی کی درخواست کردی جائے ، اجتماعی قرآن خوانی کا نظم نہ بنایا جائے۔جن لوگوں کو میت سے خصوصی تعلق تھا وہ خلوص کے ساتھ تلاوت کریں گے اور اس کا ثواب میت کو پہونچے گا،   اور اس سے میت کو فائدہ پہونچے گا۔

عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم لقي ركبا بالروحاء، فقال: «من القوم؟» قالوا: المسلمون، فقالوا: من أنت؟ قال: «رسول الله»، فرفعت إليه امرأة صبيا، فقالت: ألهذا حج؟ قال: «نعم، ولك أجر»(صحیح مسلم کتاب الحج ،باب صحۃ حج الصبی واجر من حج بہ 2/974)

ان المراد ان ذلك بسبب حملها له وتجنيبها اياه ما يجتنبہ المحرم واستدل به بعضهم على ان الصبي يثاب على طاعته ويكتب له حسناته وهو قول اكثر اهل العلم (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری،ج7،ص553،مطبوعہ ملتان)

وتصح عباداته وان لم تجب عليه واختلفوا في ثوابها والمعتمد انه له وللمعلم ثواب التعليم وكذا جميع حسناته‘‘(الاشباہ والنظائر،ص264،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ،بیروت) الاصل فی ھذا الباب ان الانسان له ان يجعل ثواب عمله لغيره) يعني سواء كان جعل ثواب عمله لغيره(صلاةاو صوما او صدقة او غيرها)كالحج وقراءة القران والاذكار وزيارة قبور الانبياءوالشهداء والاولياءوالصالحين وتكفين الموتى وجميع انواع البر (البنایہ شرح ھدایہ،کتاب الحج ،باب الحج عن الغیر،ج4،ص422،مطبوعہ کوئٹہ)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jan 24, 2022 by Darul Ifta
...