19 views
سوال ۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء اکرام مسائل ذیل کے بارے میں کی عبیداللہ کی شادی ہوئ اس وقت اس نے اپنی بیوی کو جس حالت میں دیکھا شادی کے بعد اس حالت میں نہیں پایا جس سے وہ اپنی بیوی کی طرف مائل ہو اب وہ اس کے ساتھ رہتا ہے تو اس کی طرف مائل نہیں ہو پاتا اور ٹینشن میں رہتا ہے اس کی یہ شادی جلدی میں ہوئی ہے اب آپ مفتیان کرام اس کا جواب مرحمت فرمائیں کہ وہ کیا کرے اس کو اپنے نکاح میں رکھے یا اس کو طلاق دے یا دوسری شادی کرلے، برائے کرم اس کا جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائے۔ المستفتی محمد زعیم الدین دہلی
asked Jun 11 in نکاح و شادی by azhad1

1 Answer

Ref. No. 1719/43-1684

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ حتی الامکان اس رشتہ کو نباہنے کی کوشش کرے، تاہم اگر شوہر وبیوی کے درمیان  اتفاق  نہ ہوسکے ، اور شوہر کسی طرح اس کے ساتھ رہنے کے لئے تیار نہیں ہے، اور مقاصد نکاح فوت ہوتے ہوں تو شوہر کو شرعاً اختیار ہے کہ اس کو  ایک طلاق رجعی  دے دےتاکہ عورت  عدت کے بعد کسی ایسے شخص سے نکاح کرلے جو پورے حقوق ادا کرسکے ۔

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ-وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْــٴًـا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِۙ-فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖؕ-تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَاۚ-وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ (سورۃ البقرۃ ۲۲۹)

الا اذا خافا ان لا یقیما حدود اللہ فلا باس ان یتفرقا (الدر المختار مع الشامی: 4/144)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jun 11 by Darul Ifta
...