100 views
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس شخص کے بارے میں جو اپنے مال کا ایک تہائی حصہ وصیت کرلے اپنے رشتہ داروں کے لیے اور اس شخص کے قریب رشتہ دار بہے ہیں   اور بعید بہے ہیں اب سوال یہ ہیں کے اس وصیت کو کونسے رشتےداروں پر لاگو ھوگاں قریب یا بعید ؟؟؟؟
عنایت فرمائیں حوالہ جات کے ساتھ ۔۔۔
والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
asked Jul 2, 2022 in احکام میت / وراثت و وصیت by Zahidullah

1 Answer

Ref. No. 1907/43-1799

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   صورت مسئولہ میں ان رشتہ داروں کے لئے تو وصیت نافذ نہیں ہوگی جن کو وراثت میں سے حصہ ملے گا، ہاں جو محروم ہورہے ہوں گے، ان کے حق میں وصیت نافذ ہوجائے گی، مثلا بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتے محروم ہوتے ہیں تو پوتوں کے حق میں وصیت نافذ ہوگی۔ اور اگر میت کا کائی بیٹا زندہ نہ ہو صرف پوتے موجود ہوں تو پھر پوتوں کے حق میں بھی وصیت نافذ نہیں ہوگی، کیونکہ اب وہ وارث بن رہے ہیں۔ اور حدیث میں ہے:

عن ابی امامۃ قال سمعت رسول اللہ  ﷺ یقول فی خطبتہ عام حجۃ الوداع ان اللہ قد اعطی کل ذی حق حقہ فلاوصیۃ لوارث (رواہ ابو داؤد۔ مشکوۃ 1/265، باب الوصایا، نعیمیہ دیوبند)

 باق وہ رشتہ دار جو جو وصیت کے حقدار بنیں گے ان میں جو رشتہ دار درجہ اور قرابت میں میت کے زیادہ قریب ہیں وہی مستحق ہوں گے۔

الاقرب فالاقرب یرجحون بقرب الدرجۃ الخ ثم یرجحون بقوۃ القرابۃ ( السراجی فی المیراث ص22، باب العصبات، مکتبہ بلال دیوبند)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند 

 

answered Jul 5, 2022 by Darul Ifta
...