73 views
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ ایک شخص نے قسم کھاکر اپنی بیمار اھلیہ سے کہا کہ جب تک تو تندرست نہ ہوجائے میں آپ سے وطی نہیں کروں گا
تو کیا اس سے ایلاء ثابت ہوجائے گا یا نہیں؟
مذکورہ امر کا جواب قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں عنایت فرما کر ممنون فرمائیں.
asked Jul 24, 2022 in طلاق و تفریق by Niaz Muhammad

1 Answer

Ref. No. 1934/43-1847

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  اس قسم سے ایلاء ہوگیا، چار ماہ کے اندر وطی کرکے قسم توڑ دیں اور کفارہ اداکردیں ، ورنہ چار ماہ گزرنے پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔

  للذین یؤلون من نساءھم تربص اربعۃ اشھر فان فاؤا فان اللہ غفور رحیم، وان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیم۔ (البقرۃ۔ الاٰیۃ 226-227) الایمان مبنیۃ علی الالفاظ (القواعد الفقہیۃ ص 65)  

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jul 30, 2022 by Darul Ifta
...