74 views
سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں صورت مسئلہ یہ ہے کہ زید ایک مسجد میں امام ہے اور عمرو اسی مسجد میں مؤذن ہے عمرو مؤذن غیر محرم لڑکیوں سے عشق محبت کی لمبی لمبی باتیں کرتا ہے تو معلوم یہ کرنا ہے کہ عمرو کا اذان واقامت کہنا کیسا ہے؟ آیا اس کو مؤذن رکھا جائے یا نہیں؟ نیز اس کی یہ بات صرف امام کو معلوم ہے . امام نے اس کو سمجھایا بھی ہے لیکن وہ نہیں مانتا ہے. تو امام اس کی یہ بات ذمہ داران مسجد سے بتا سکتا ہے یا نہیں؟
asked Aug 23, 2022 in آداب و اخلاق by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 2002/44-1952

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اذان کے لئے صالح اور متقی شخص کا انتخاب کرنا چاہئے، اس کے اثرات مرتب ہو ں گے۔ مؤذن کو مزید کسی بزرگ اور کسی بااثر شخصیت سے ملاقات کرائیں شاید ان کی بات سمجھ میں آجائے۔  جب کوئی حیلہ کارگر نہ ہو تو انتظامیہ سے کہیں کہ اس کی جگہ کسی دوسرے متقی اور صالح شخص کو مؤذن مقرر کرے۔

وینبغی أن یکون المؤذن رجلاً عاقلاً صالحاً تقیاً عالماً بالسنۃ ......... ویکرہ اذان الفاسق ولایعاد ھکذا فی الذخیرۃ۔ (عالمگیریۃ ص ۶۰، ج ۱)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Sep 4, 2022 by Darul Ifta
...