5 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امام صاحب نے قرات کرتے ہوئے" آمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنین کل آمن باللہ
وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ شرہ والبعث بعد الموت "پڑھا. یعنی قرآن کو غیر قرآن کے ساتھ ملادیا تو کیا اسطرح پڑھنے سے نماز فاسد ہوگی یانہیں؟ اگر قرآن کو غیر قرآن کے ساتھ ملاکر پڑھنے سے نماز میں فرق پڑے گا یا نہیں
asked Sep 10 in نماز / جمعہ و عیدین by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 2033/44-2008

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ مذکورہ عبارت کا مطلب بالکل درست ہے، مگر چونکہ قرآن  میں نہیں ہے، اس لئے احتیاطا نماز کے فساد کا حکم ہوگا۔ اس لئے نماز لوٹائی جائے گی۔

"ومنها: ذکر کلمة مکان کلمة علی وجه البدل إن کانت الکلمة التي قرأها مکان کلمة یقرب معناها وهي في القرآن لاتفسد صلاته، نحو إن قرأ مکان العلیم الحکیم، وإن کان في القرآن، ولکن لاتتقاربان في المعنی نحو إن قرأ: "وعداً علینا إنا کنا غافلین" مکان {فاعلین} ونحوه مما لو اعتقده یکفر تفسد عند عامة مشایخنا،وهو الصحیح من مذهب أبي یوسف رحمه الله تعالی، هکذا في الخلاصة". (الفتاوی الهندیة، ۱: ۸۰،، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)

کما حققہ ابن عابدین فی رد المحتار، باب صفة الصلاة ، قال:ان الإمام رجع إلی قولہما فی اشتراط القراء ة بالعربیة. لأن المأمور بہ قراء ة القرآن، وہو اسم للمنزل باللفظ العربی المنظوم ہذا النظم الخاص، المکتوب فی المصاحف، المنقول إلینا نقلا متواترا.

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered 3 days ago by Darul Ifta
...