10 views
نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے سے کیا ہوتا، ایسا کہنا کیسا ہے؟
(۷۴)سوال:ایک شخص کو نماز کی دعوت دی گئی اس کے جواب میں اس نے یہ الفاظ کہے کہ ’’نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے سے کیا ہوتا ہے‘‘ اس کا کیا شرعی حکم ہے؟
فقط: والسلام
المستفتی: محمد ادریس علی، آسام
asked Sep 17 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:مذکورہ جملہ اگر عیاذ ا باللہ نماز کا مذاق اڑانے کے لئے کہا تو ایمان سے خارج ہے اور اگر مذاق اڑانے کے لئے نہیں کہا، تب بھی ایسا جملہ کہنا گناہ کبیرہ ہے توبہ و استغفار لازم ہے ایسے شخص کو مناسب طریقہ پر نصیحت کی جانی چاہئے۔(۱

(۱) أو قال: ’’نماز کردہ وناکردہ یکے است‘‘  أو قال: ’’چنداں نماز کردم مرا دل بگرفت‘‘ أو قال: ’’نماز چیزے نیست کہ اگر بماند کندہ شود‘‘ فہٰذا کلہ کفر، کذا في خزانۃ المفتیین۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیہ، ’’کتاب السیر: الباب التاسع: في أحکام المرتدین، وموجبات الکفر أنواع، ومنہا: ما یتعلق بالصلاۃ، والصوم، والزکاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۰)

ولو قیل لرجل: صلّ فقال: ’’تو چندیں گاہ نماز کردے‘‘ أو قال: ’’چندین گاہ نماز کردم چہ بر سر آوردم‘‘ کفر۔ (الفتاویٰ السراجیہ، ’’کتاب السیر: باب ألفاظ الکفر‘‘: ج ۲، ص: ۳۰۷)

الہازل أو المستہزي إذا تکلم بکفر استخفافاً استہزاء ومزاحاً یکون کفراً عند الکل وإن کان اعتقادہ خلاف ذلک۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب السیر: الباب التاسع: في أحکام المرتدین، موجبات الکفر أنواع، ومنہا: ما یتعلق بتلقین الکفر‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۷)

 

 

 دار العلوم وقف دیوبند

 

answered Sep 17 by Darul Ifta
...