73 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علیکم میں اپنا سونے کا  زیور سود پہ رکھا تھا اس کے  عوض  مجھے اس نے 1 لاکھ 60 ہزار روپئے دئے تھے، اور اس کے علاوہ جب تک یہ رقم میں واپس نہ کروں  مجھے16 ہزار مہینہ دینا ہوتا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ میرا بیٹا عمرہ پر جارہاہے، اور میں بھی جانا چاہ رہی تھی لیکن اس کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وو مجھے بھی  عمرہ پر لے کے جا ئے، اور سود بھی اتار دے میرا،۔  اس لیے مجھے پوچھنا ہے کہ اگرمیں بلا  سود اتارے عمرہ کروں تو  کیامیرا عمرہ قبول  ہوگایا نہیں؟
asked Nov 13, 2022 in حج و عمرہ by Areeba

1 Answer

Ref. No. 2121/44-2158

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قرآن و حدیث میں واضح احکام کے مطابق سود کا لین دین حرام ہے، اور سودی قرض  لینا بلا ضرورت شدیدہ جائز نہیں ہے۔ آپ نے جس مقصد کے لئے قرض لیا ہے اس کو پورا کرکے جلد از جلد قرض  سے چھٹکاراحاصل کرنے کی کوشش کریں۔ سودی قرض لے کر بے فکر ہوجانا بہت بری بات ہے، گناہ کا باعث ہے۔ آپ پر عمرہ لازم نہیں اس لئے آپ عمرہ پر جانے کے مقابلہ میں  سودی قرض کی ادائیگی پر توجہ دیں۔ 

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Nov 27, 2022 by Darul Ifta
...