73 views
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں
زید کا الکٹرانک اور الکٹکل کا چھوٹا کاروبار ہے۔
وہ اپنے کاروبار کو بڑھانا چاہتا ہے ،
اس کے لیے موٹی رقم درکار ہے ،
زید کے پاس اتنی رقم نہ ہونے کی وجہ سے وہ بینک سے لون لینا چاہتا ہے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس کے لیے زید کا بینک سے لون لینے کی شرعی رو سے جواز کی کوئی صورت نکل سکتی ہے؟
المستفتی ساجد چمارنی
asked Dec 21, 2022 in ربوٰ وسود/انشورنس by sajidanw

1 Answer

Ref. No. 2160/44-2254

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اسلام میں سودی لین دین پر لعنت وارد ہوئی ہے اور سخت وعید آئی ہے، اسلئے کاروبار کی ترقی کے لئے سودی لون لینے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی۔ ہم مسلمانوں کو حدیث پر عمل کرتے ہوئے سودی قرض لینے اور دینے سے لازمی طور پر بچنا  چاہئے ۔ دوسرے  لوگ سودی لون سے بظاہر ترقی کرتے نظر آئیں گے مگر ہماری ترقی مال و دولت کی فراوانی میں نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے جذبہ سے ہم سودی لین دین سے گریز کریں گے تو ان شاء اللہ ہمارے کاروبار میں برکت ہوگی اور پریشانیاں دور ہوں گی۔ جو کچھ آپ کے پاس ہے اسی میں محنت کیجئے، گراہک کے ساتھ  نرم رویہ رکھئے، اور خوش خلقی کا مظاہرہ کیجئے۔ اور دھوکہ دہی سے گریز کیجئے۔

عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہما قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا وموٴکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء (الصحیح لمسلم، ۲: ۷۲، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔

ولو أنھم آمنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکٰت من السماء والأرض الخ (سورة الأعراف،رقم الآیة:۹۶)۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Dec 27, 2022 by Darul Ifta
...