102 views
میرے شوہر سرکاری ٹیچر ہیں۔ انکے ریٹائرمنٹ پر جو رقم ملتی ہے  اس میں  ملازمین سے  ماہانہ کاٹ کر اور پھر ریٹائر ہوتے وقت سرکار اپنی طرف سے تھوڑی رقم بڑھاکر دیتی ہے ، کیا وہ رقم لینا جائز ہے ؟بعض  لوگ کہتے ہیں  کہ وہ تحفہ ہے اوربعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ سود ہے …ان میں سے کونسا درست ہے؟حمیراء بانو
asked Feb 21, 2023 in ربوٰ وسود/انشورنس by humyrabanu

1 Answer

Ref. No. 2269/44-2426

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صورت مسئولہ میں ملازمین کی تنخواہ سے جو رقم کاٹی گئی، اور اس پر ادارہ نے اپنی جانب سے جو اضافہ کیا اس کا لینا جائز ہے، اور یہ حلال آمدنی ہےجس میں اپنا پیسہ اور حکومت کا تحفہ شامل ہے،  البتہ ان دونوں رقموں پر بینک کی طرف سے جو انٹرسٹ (سود) ملتاہے، اس رقم  کا لیناجائزنہیں ہے۔

قوله: بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لايملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة، والمراد أنه لايستحقها المؤجر إلا بذلك، كما أشار إليه القدوري في مختصره، لأنها لو كانت دينًا لايقال: إنه ملكه المؤجر قبل قبضه، وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها، فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه، وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر، كذا في المحيط. لكن ليس له بيعها قبل قبضها". (البحر الرائق ج:7،ص:300،ط: دارالكتاب الإسلامي)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Mar 11, 2023 by Darul Ifta
...