59 views
(۶)سوال:ہمارے یہاں جو شخص آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سن کر انگوٹھے نہیں چومتا اس کو مسلمانوں سے علیحدہ کردیا جاتا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مسلمان نہیں ہے جب کہ وہ شخص نمازوں کا پابند اور تلاوت قرآن کا پابند ہے رمضان کے روزے اور زکوٰۃ فطرہ وغیرہ سب ادا کرتا ہے ان کا یہ کہنا کیسا ہے؟
asked Mar 13, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی آئے تو درود پڑھنا ضروری ہے۔ انگوٹھے چومنے کا کوئی ثبوت شریعت میں نہیں ہے، جو کوئی انگوٹھے چومتا ہو اور کوئی غلط عقیدہ رکھتا ہو اس پر اس طریقہ کا چھوڑنا اور توبہ کرنا لازم ہے پس صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کو کافر کہنا بالکل غلط ہے۔ (۱)

۱) یستحب أن یقال عند سماع الأولیٰ من الشہادۃ: صلی اللّٰہ علیک یا رسول اللّٰہ، وعند الثانیۃ منہا: قرت عیني بک یا رسول اللّٰہ، ثم یقول: اللّٰہم متعني بالسمع والبصرۃ بعد وضع ظفري الإبہامیی علی العینین ………… أیضاً: ثم قال: ولم یصح في المرفوع من کل ہذا شیئ۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب الأذان، مطلب في کراہۃ تکرار الجماعۃ في المسجد، تتمۃ‘‘: ج ۲، ص: ۶۸)
عن عائشۃ -رضي اللّٰہ عنہا- قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من أحدث في أمرنا ہذا ما لیس فیہ فہو رد۔ (أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الصلح: باب إذا اصطلحوا علی صلح جور فہو مردود‘‘: ج ۱، ص: ۳۷۱، رقم: ۲۶۹۷) وقال القاري في مرقاۃ المفاتیح: ہذا الحدیث عماد في التمسک بالعروۃ الوثقیٰ، وأصل في الاعتصام بحبل اللّٰہ الأعلی، ورد للمحدثات والبدع والہوی، وقد أنشد في ہذا المعنی۔ (ملا علي قاري، مرقاۃ الفاتیح، ’’کتاب الإیمان: باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الأول‘‘: ج ۱، ص: ۳۳۶، رقم: ۳۳۶)

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند جلد اول ص 192

answered Mar 13, 2023 by Darul Ifta
...