85 views
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں:
کیا حضرات ابنیاء علیہم السلام اور شہداء اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں؟ اور کیا حضرات انبیاء علیہم السلام سے قبروں کے فرشتے (منکر نکیر) سوال وجواب کریں گے؟یا مذکورہ حضرات بغیر سوال وجواب کے ہی رہیں گے؟ اس بارے میں اہل سنت والجماعت کا کیا عقیدہ ہے؟ مدلل ومفصل جواب مرحمت فرمائیں۔
asked Mar 13, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:حضرات انبیاء علیہم السلام بشمول سید الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے پردہ فرما گئے، لیکن وہ حضرات اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں جیسے شہداء اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ {وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتٌط بَلْ أَحْیَآئٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَہ۱۵۴} سورۃ البقرۃ: ۱۵۴۔ حدیث پاک میں سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا:
’’أکثروا الصلوٰۃ عليّ یوم الجمعۃ فإنہ مشہود تشہدہ الملائکۃ، وإن أحدا لن یصلي علي إلا عرضت علي صلاتہ حتی یفرغ منہا، قال: قلت: وبعد الموت؟ قال: وبعد الموت إن اللّٰہ حرم علی الأرض أن تأکل أجساد الأنبیاء فنبي اللّٰہ حي یرزق‘‘۔(۱)
مجھ پر جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ اس دن فرشتے جمع ہوتے ہیں اور جب تم میں سے کوئی شخص مجھ پر درود پڑھتا ہے، تو اس درود کو مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ موت کے بعد بھی؟فرمایا: ہاں! موت کے بعد بھی؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء علیہم السلام کے جسم مبارک کو کھانا حرام کر دیا ہے۔
’’إنہ (النبي -صلی اللّٰہ علیہ وسلم-) اجتمع مع الأنبیاء وأن الأنبیاء أحیاء في قبورہم یصلون‘‘(۲) انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں باحیات ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور ان سے منکر نکیر سوال بھی نہیں کرتے ہیں یہی اہل سنت والجماعت کا عقیدہ بھی ہے۔

(۱) أخرجہ ابن ماجہ، في سننہ، ’’أبواب ما جاء في الجنائز: باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘: ج ۱، ص: ۱۱۸، رقم: ۱۶۳۷۔

(۲) ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح، ’’کتاب الإیمان، باب الإیمان بالقدر، الفصل الأول‘‘: ج ۱، ص: ۲۴۲، رقم: ۸۱)
 وصح خبر ’’الأنبیاء أحیاء في قبورہم یصلون۔ (ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الجمعۃ، الفصل الثالث‘‘: ج ۳، ص: ۴۱۵، رقم: ۱۳۶۶)


  فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند جلد اول ص 201

answered Mar 13, 2023 by Darul Ifta
...