59 views
کیا فرماتےہیں مفتیانِ کرام و علمائے عظام مسءلہ ذیل کے بارے میں
 ‌ہمارے علاقہ میں بینک کا سودی رقم
خود کوئی کوئی استعمال کرلیتے ہیں ان لوگو کو گناہ سے بچانے کے لیے  مدرسہ والو نے سودی رقم مانگ کر غریب بچوں کے کھانے پینے میں خرچ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟
مولانا اسرافیل بیربھومی
asked May 3, 2023 in ربوٰ وسود/انشورنس by Osiullah

1 Answer

Ref. No. 2338/44-3519

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ سودی رقم کا اپنے استعمال میں لانا حرام ہے، اس لئے جو لوگ سودی رقم بینک  سے وصول کرتے ہیں ان پر لازم ہے کہ سودی رقم غریبوں کو بلانیت ثواب دیدیں، اور اس مقصد کے لئے اگر مدرسہ والے لوگوں سے سودی رقم وصول کرکے مستحق لوگوں تک پہنچائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لہذا مدرسہ والے ان لوگوں سے سودی رقم لے کر غریب بچوں  کو دے سکتے ہیں یا  کھانے پینے کی چیزیں خریدکر غریب بچوں  میں  تقسیم کرسکتے ہیں ۔

قال ابن عابدین نقلاً عن النہایة: ویردونھا علی أربابھا إن عرفوھم، وإلا تصدقوا بھا لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ (رد المحتار: ۹/۴۷۰، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل فيالبیع، ط، دار إحیاء التراث العربي، بیروت) وقال القرطبي: إن سبیل التوبة مما بیدہ من الأموال الحرام إن کانت من ربا فلیردہا علی من أربی علیہ، ویطلبہ إن لم یکن حاضرًا، فإن أیِسَ من وجودہ فلیتصدّق عنہ (الجامع لأحکام القرآن للقرطبی: ۳/۲۴۸، البقرة: ۲۷۶، ط: دار إحیاء التراث العربي، بیروت) وقال البنوري: قال شیخنا: ویُستفادُ من کتب فقہائنا کالہدایة وغیرہ: أن من ملک بملکٍ خبیثٍ، ولم یمکنہ الردُّ إلی المالک، فسبیلہ التصدق علی الفقراء - والظاہرُ أن المتصدق بمثلہ ینبغي أن ینوي بہ فراغَ ذمتہ ولا یرجو بہ المثوبة، نعم یرجوہا بالعمل بأمر الشارع، وکیف یرجو الثوابَ بمال حرام ویکفیہ أن یخلص منہ کفافًا رأسًا برأس (معارف السنن: ۱/۳۴، أبواب الطہارة، باب ما جاء لا تقبل صلاة بغیر طہور، ط: دار الکتاب، دیوبند)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered May 31, 2023 by Darul Ifta
...