55 views
میلاد کی نذر ماننا اور مجلس میلاد منعقد کرنا:
(۳۰)سوال:(۱) کسی نے نذر مانی کہ میرا فلاں کام ہوگیا تو میلاد شریف کروں گا۔ تو اس نذر کا پورا کرنا واجب ہے یا نہیں؟
(۲) میلاد شریف کی مجلس منعقد کرنا درست ہے یا نہیں؟
فقط: والسلام
المستفتی: محمد ظفیر الدین
asked May 23, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:مروجہ میلاد (جس میں التزام قیام و شیرینی کی تقسیم اور غیر صحیح روایات کا بیان ہوتا ہے) کا پڑھنا نہ تو فرض ہے نہ واجب نہ مسنون و مستحب ہے بلکہ بدعت ہے، اس سے پرہیز ہر مسلمان کے لئے لازم اور ضروری ہے۔(۲)

البتہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اگر صحیح روایات پڑھی جائیں اور کوئی قیام وغیرہ کی رسمیں نہ کی جائیں اور اس خاص وقت کی تعیین دائمی طور پر نہ کی جائے تو میلاد باعث ثواب ہے۔(۱)
پس میلاد کی نذر ماننے سے میلاد کرانا ضروری نہیں ہے اگر مروجہ طریقہ پر میلاد کرائی جائے گی، تو نیکی برباد اور گناہ لازم آئے گا ،اس رقم کو جو میلاد پر خرچ کرنے کا ارادہ ہو غرباء و مساکین اور ضرورت مندوں پر خرچ کردے کہ اس کا ثواب اس کو مل جائے گا۔(۲)

(۲) لا یجوز ما یفعلہ الجہال بقبور الأولیاء والشہداء من السجود والطواف حولہا واتخاذ السرج والمساجد علیہا ومن الاجتماع بعد الحول کالأعیاد ویسمونہ عرسا۔ (محمد ثناء اللّٰہ -رحمہ اللّٰہ- تفسیر مظہري، ’’سورۃ آل عمران: ۶۴‘‘: ج ۲، ص: ۶۸)
آنچہ بر قبور اولیاء عمارت ہائے رفیع بنا می کنند وچراغاں روشن کنند وازیں قبیل ہرچہ می کنند حرام است یا مکروہ۔
ترجمہ: وہ جو کچھ اولیاء کرام کی قبروں پر کیا جاتا ہے کہ اونچی اونچی عمارتیں بناتے ہیں اور چراغ روشن کرتے ہیں اور اس قسم کی جو چیز بھی کرتے ہیں حرام ہے، یا مکروہ۔ (قاضی ثناء اللہ، مالابد منہ: ص: ۷۸)

(۱) الاحتال بذکر الولادۃ الشریفۃ إن کان خالیا من البدعات المروجۃ فہو جائز بل مندوب کسائر أذکارہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (امداد الفتاوی: ج ۶، ص: ۳۲۷)
(۲)  المولد الذي شاع في ہذا العصر وأحدثہ صوفي في عہد سلطان أربل ولم یکن لہ أصل من الشریعۃ الغراء۔ (علامہ أنور شاہ الکشمیري، العرف الشذي، ’’أبواب العیدین، باب ما جاء في التکبیر في العیدین‘‘: ج ۱، ص: ۵۶۸)
وأقبح منہ النذر بقراء ۃ المولد في المقابر۔ (أیضاً:)
ومع اشتمالہ علی الغناء واللعب وإیہاب ثواب ذلک إلی حضرۃ المصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ‘‘کتاب الصوم: باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في النذر الذي یقع للأموات من أکثر العوام‘‘: ج ۳، ص: ۴۲۷)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص332

answered May 24, 2023 by Darul Ifta
...