64 views
عرس کے موقعہ پر فاتحہ خوانی کے بعد شیرینی یا کھانا تقسیم کرنا:
(۵۰)سوال:کسی بزرگ یا ولی کی تاریخ انتقال پر ہر سال اس بزرگ کے مزار پر جمع ہونا اور اس دن کو بزرگ کا یوم عرس کہنا اور قرآن خوانی یا فاتحہ وغیرہ کے بعد شیرنی یا کھانا تقسیم کرنا اور مزار کے قریب چراغ جلانا اور قبر پر چادر چڑھانا شرعاً درست ہے یا نہیں اور وہ شیرینی کھانا جائز ہے یا نہیں؟
فقط: والسلام
المستفتی: سمیع اللہ خاں، سیتاپور
asked May 28, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسلمانوں کے لئے وہی عمل باعث خیر و برکت اور باعث نجات ہوگا جو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے اربعہ یا ان صحابۂ کرامؓ سے ثابت ہو جنہوں نے قرآن اور حدیث اور فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا اسوہ بنایا اور عمل کیا اور اسی کے مطابق اسلاف و اکابر نے عمل کیا۔(۱) جن امور کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی ایک طریقہ کو ان حضرات نے اختیار نہیں کیا یہ سب بہت بعد کی ایجادات ہیں اور ان پر عمل بلاشبہ بدعت ہے(۲) اور بدعت کو ضلالت سے تعبیر کیا گیا ہے اس لئے ترک ضروری ہے۔(۳)

(۱) لا یجوز ما یفعلہ الجہال بقبور الأولیاء والشہداء من السجود والطواف حولہا واتخاذ السرج والمساجد علیہا ومن الاجتماع بعد الحول کالأعیاد ویسمونہ عرسا۔ (محمد ثناء اللّٰہ، پاني پتي، تفسیر مظہري، ’’سورۃ آل عمران: ۶۴‘‘: ج ۲، ص: ۶۸)
(۲) أنکر الخطابي ومن تبعہ وضع الجرید الیابس، وکذلک ما یفعلہ أکثر الناس من وضع ما فیہ رطوبۃ من الریاحین والبقول ونحوہما علی القبور لیس بشیء۔ (العیني، عمدۃ القاري، ’’باب ما جاء في غسل البول‘‘: ج ۳، ص: ۱۲۱)
ومن المنکرات الکثیرۃ کإیقاد الشموع والقنادیل التي توجد في الأفراح، وکدق الطبول، والغناء بالأصوات الحسان، واجتماع النساء والمردان، وأخذ الأجرۃ علی الذکر وقراء ۃ القرآن، وغیر ذلک۔ (ابن عابدین، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في کراہۃ الضیافۃ من أہل المیت‘‘: ج ۳، ص: ۱۴۹)
(۳) وشر الأمور محدثاتہا وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ (أخرجہ ابن ماجہ، في سننہ، ’’باب اجتناب البدع والجدل‘‘: ج ۱، ص: ۱۸؛ مشکوۃ المصابیح، ’’کتاب الإیمان: باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الأول‘‘: ج ۱، ص: ۲۷)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص353

answered May 28, 2023 by Darul Ifta
...