71 views
مزارات پر چڑھاوے کی رقم کا مصرف کیا ہے؟
(۵۸)سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں: نذرانے وغیرہ جو کہ مزاروں پر چڑھائے جاتے ہیں اور خاصی ایک رقم اکٹھی ہوجاتی ہے اس رقم کا مصرف کیا ہے؟ کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ مسجد میں لگادیں، بلکہ دیگر بعض حضرات جہاد میں خرچ کرنے کو کہتے ہیں زید کہتا ہے کہ ’’ماأہل بہ لغیراللّٰہ‘‘ میں داخل ہوکر یہ حرام ہے۔ ہاں معطیان توبہ کرلیں اور  اجازت دیدیں تو درست ہے، بکر کہتا ہے یہ ناممکن ہے؛ اس لیے کہ دینے والے مختلف مقامات کے ہیں اور ان میں یہ بھی ہے کہ صحیح العقیدہ لوگ بھی نہیں۔دوسرے یہ کہ معطیان نے متولی مزار کو مالک بنایا ہے بہر حال اس رقم کو جائز اور مناسب طریقہ پر خرچ کرنے کی شکل بیان فرمائیے۔
فقط: والسلام
المستفتی: اصغر حسین، دیوبند
asked May 28, 2023 in اسلامی عقائد by Rahimuddin

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:مزارات پر جو چیزیں شیرنی وغیرہ چڑھائی جاتی ہیں وہ غیر اللہ کے نام پر ہونے کی وجہ سے حرام وناجائز ہوں گی(۱) بہتر یہ ہے کہ ان چیزوں کو مالکوں کو واپس کردیا جائے؛ لیکن اگر مالکوں کا پتہ نہ چل سکے تو ان چیزوں کو بدرجہ مجبوری غیر مسلموں کو فروخت کردی جائے اور اس کی قیمت کسی غریب کو بلا نیت ثواب دیدیں یا یہی سامان غریبوں کو دیدیں۔(۲)

(۱) {وَ مَا أُہِلَّ بِہِ لِغَیْرِ اللّٰہِ} (سورۃ البقرۃ: ۱۷۳)
إن النذر الذي یقع للأموات من أکثر العوام وما یؤخذ من الدراہم والشمع والزیت ونحوہا إلی ضرائح الأولیاء العظام تقرباً إلیہم فہو بالاجماع باطل وحرام۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصوم: باب ما یفسد الصوم ومالا یفسدہ، مطلب في النذر الذي یقع للأموات من أکثر العوام‘‘: ج ۳،ص: ۴۲۷)
(۲) وإلا تصدقوا بہا لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الحظر والإباحۃ: باب الاسبراء وغیرہ، فصل في البیع‘‘: ج۹، ص: ۵۵۳)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص362

answered May 28, 2023 by Darul Ifta
...