77 views
عرس میں شرکت اور مزار کے غسل کے پانی کو متبرک سمجھنا:
(۶۴)سوال:عرس وغیرہ میں شریک ہونا، اور مزار کے غسل کے پانی کو پینا، اور تبرک کے طور پر استعمال کرنا، قوالی کرنا، فاتحہ کرنا، اور مزارات کی چادر کو تبرک سمجھ کر چومنا کیسا ہے؟
فقط: والسلام
المستفتی: حامد علی خاں، دیوبند
asked May 31, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:صورت مسئولہ میں جن چیزوں کا ذکر ہے ان کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے؛ بلکہ یہ سب چیزیں بدعت اور باعث شرک ہیں اس لیے شریعت نے ایسی چیزوں کی قطعاً اجازت نہیں دی ہے۔ مزارات پر عرس ودیگر تقریبات عرس میں شریک ہونا شرعاً جائز نہیں۔(۱)

(۱) ومن جملۃ ما أحدثوہ من البدع مع اعتقادہم أن ذلک من أکبر العبادات وأظہر الشعائر ما یفعلونہ في شہر ربیع الأول من المولد وقد احتوی علی بدع ومحرمات جملۃ۔ (موسوعۃ الرد علی الصوفیۃ، ’’البدع الحولیۃ‘‘: ج ۲۲، ص: ۱۹۳)
وقد فصل صاحب الہدایۃ فیہا أن المغني للناس إنما لا یقبل شہادتہ لا یجمعہم علی کبیرۃ والقرطبي علی أن ہذا الغناء وضرب القضیب والرقص حرام بالإجماع عند مالک وأبي حنیفۃ وأحمد رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہم في مواضع من کتابہ إلخ۔ (جماعۃ من علماء الہند، فتاویٰ بزازیہ علی ہامش الہندیۃ، ’’کتاب ألفاظ تکون إسلاماً أو کفراً أو خطأً: باب في المتفرقات‘‘: ج ۶، ص: ۳۴۹)


 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص367

answered May 31, 2023 by Darul Ifta
...