38 views
چالیس روز تک قبر کا پہرہ دینا:
(۷۴)سوال:پڑوس میں ایک شخص کا انتقال ہوگیا تھا، ایک دو نے کہا کہ قبر کا پہرہ ۴۰؍ دن تک دو اور کہا کہ ۴۰؍ دن تک حضرت علامہ انور شاہؒ کی قبرکا بھی پہرہ دیا گیا تھا، یہ واقعہ درست ہے یا نہیں؟ اور قبر کا پہرہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟
فقط: والسلام
المستفتی: دلشاد احمد، کیرانہ
asked Jun 3, 2023 in Urdu by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:چالیس روز یا اس سے کم و بیش قبر کا پہرہ دینا، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی جگہ درندوں وغیرہ سے خوف ہو کہ لاش کو نقصان پہونچائیں گے، تو اس وقت اگر اس قسم کی حفاظت کردی جائے تو اس میں مضائقہ نہیں ہے؛ (۱) لیکن ہر ایک کے لئے اس کا التزام بدعت ہوجائے گا۔(۲)
علامہ انور شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں یہ بات کہ ۴۰؍ دن تک ان کی قبر کا پہرہ دیا گیا بالکل غلط اور فرضی کہانی ہے، ان کی تدفین کے وقت میں موجود تھا، اور بعد کے واقعات سے بھی واقف ہوں۔

(۱) أما إذا أرید بہ دفع أذی السباع أو شيء آخر لا یکرہ۔ (أحمد بن محمد، مراقي الفلاح شرح نور الإیضاح، ’’فصل في حملہا ودفنہا‘‘: ج ۱، ص: ۲۲۶)
(۲)  عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا، قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من أحدث في أمرنا ہذا ما لیس منہ فہو رد۔ (أخرجہ مسلم، في صحیحۃ، ’’کتاب الأقضیۃ: باب نقض الأحکام‘‘: ج ۲، ص: ۷۷، رقم: ۱۷۱۸)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص376

answered Jun 3, 2023 by Darul Ifta
...