44 views
مزاروں پر متعدد غیر شرعی اعمال:
(۷۸)سوال:مزارات کا طواف کرنا اور عورتوں کا مزاروں پر جا نا کیا حکم رکھتا ہے؟ اسی طرح مزاروں کے سجدے اور الٹے پیر واپس ہونا شریعت کی رو سے کیا ہے؟
فقط: والسلام
المستفتی: ایس اے قادر،بمبئی
asked Jun 3, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:عورتوں کے مزارات پر جانے کی، ان کی نوحہ و گریہ کرنے کی وجہ سے پہلے ممانعت تھی، بعد میںاجازت دیدی گئی تھی۔ بخاری شریف میں حدیث موجود ہے، لیکن محرم کے ساتھ ہو، بے پردگی نہ ہو، مردوں سے اختلاط نہ ہو، ان شرائط کی پابندی ضروری ہے۔(۱) مزارات کا طواف قطعا ناجائز ہے اسی طرح سجدہ کرنا قطعاً جائز نہیں ہے کہ اس سے تو اندیشہ کفر ہے اور الٹے پاؤں واپس لوٹنا بھی بے اصل وبیجا احترام ہے۔(۲)

(۱) (قولہ وقیل تحرم علی النساء إلخ) قال الرملي أما النساء إذا أردن زیارۃ القبور إن کان ذلک لتجدید الحزن والبکاء والندب علی ما جرت بہ عادتہن فلا تجوز لہن الزیارۃ، وعلیہ حمل الحدیث، لعن اللّٰہ زائرات القبور، وإن کان للاعتبار والترحم والتبرک بزیارۃ قبور الصالحین فلا بأس إذا کن عجائز ویکرہ إذا کن شواب کحضور الجماعۃ في المساجد۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الجنائز: فصل السلطان أحق بصلاتہ، الصلاۃ علی المیت في المسجد‘‘: ج ۲، ص: ۳۴۲)
وقیل تحرم علی النساء والأصح أن الرخصۃ ثابتۃ۔ (أیضاً:)
عن أنس بن مالک -رضي اللّٰہ عنہ-، قال: مر النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم  بامرأۃ تبکي عند قبر، فقال: اتقی اللّٰہ واصبري، قالت: إلیک عني فإنک لم تصب بمصیبتي ولم تعرفہ، فقیل: لہا إنہ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فأتت باب النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلم تجد عندہ بوّابین، فقالت: لم أعرفک، فقال: إنما الصبر عند الصدمۃ الأولی۔ (أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الجنائز: باب زیارۃ القبور‘‘: ج ۱، ص:۱۷۱، رقم: ۱۲۸۳)
أما علی الأصح من مذہبنا وہو قول الکرخي وغیرہ من أن الرخصۃ في زیارۃ القبور ثابتۃ للرجال والنساء جمیعا فلا إشکال۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’حرم المدینۃ ومکۃ‘‘: ج ۲، ص: ۶۲۹)
وفي السراج وأما النساء إذا أردن زیارۃ القبور إن کان ذلک لتجدید الحزن والبکاء والندب کما جرت بہ عادتہن فلا تجوز لہن الزیارۃ، وعلیہ یحمل الحدیث الصحیح ’’لعن اللّٰہ زائرات القبور‘‘ وإن کان للاعتبار والترحم والتبرک بزیارۃ قبور الصالحین من غیر ما یخالف الشرع ’’فلا بأس بہ إذا کن عجائز‘‘ وکرہ ذلک للشابات کحضورہن في المساجد للجماعات اہـ۔ ’’العیني في شرح البخاري‘‘۔ (أحمد بن محمد، حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح شرح نور الإیضاح: ج ۱، ص: ۶۲۰)
(۲)ولم یکن لہ أصل من الشریعۃ الغراء۔ (علامہ أنور شاہ الکشمیري، العرف الشذي، ’’أبواب العیدین، باب ما جاء في التکبیر في العیدین‘‘: ج ۱، ص: ۵۶۸)

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص380

answered Jun 3, 2023 by Darul Ifta
...