61 views
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں میں ایک گاؤں میں امامت کے فرائض انجام دیتا ھوں ایک وقت میں ایسے دور سے گزر رہا تھا مجھے پیسو ں کی سخت ضرورت تھی کیونکہ میری والدہ ہوسپٹل میں داخل تھی اور میں بھی اپنا آپریشن کرانے کیلئے ہوسپٹل میں داخل تھا میرے 3 بھائی اور تھےوہ بھی اس حالت میں نہیں تھے میری کچھ مدد کرسکتے کیونکہ وہ بھی کافی مقروض تھے اور میں بھی کافی مقروض تھا اور مجھے مہینے میں 3 قسط جمع کرنی ہوتی تھی جس جگہ میں امامت کراتاہوں ان لوگوں نے قبرستان کے پیسوں کی بیاج کی رقم میرے اکاؤنٹ میں ڈال دی حالانکہ میں نے ان لوگوں سے اپنی کسی ضرورت کا سوال نہیں کیا تھا تو اس رقم کا میرے لئے استعمال کرنا صحیح ہوگیا یا نہیں اور میرے لئے امامت کرنا اور لوگوں کا میری اقتداء نماز اداکرنا صحیح ہوگا یا نہیں فقط والسلام محمد عادل14 ذیقعدہ 1444ھ
asked Jun 4, 2023 in متفرقات by Aadil

1 Answer

Ref. No. 2360/44-3552

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔     جب آپ سخت ضرورتمند تھے تو مقتدیوں نے آپ کی سودی رقم سے مدد کی ، اس وقت آپ کے  لئے  سودی رقم استعمال کرنا جائز تھا۔ اس لئے آپ کی امامت درست ہے اور لوگوں کا آپ کی اقتداء میں نماز پڑھنا بھی درست ہے۔

"ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه."

(فتاوی شامی:كتاب الحظر والاباحة، ج:6، ص:385، ط: سعيد)

"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه."

فتاوی شامی (کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد، ج:5، ص:99، ط:سعيد)

"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقهائنا کالهدایة وغیرها: أن من ملك بملك خبیث، ولم یمكنه الرد إلى المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء ... قال: و الظاهر أن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولایرجو به المثوبة." (معارف السنن میں ہے:

أبواب الطهارة، باب ما جاء: لاتقبل صلاة بغیر طهور، ج:1، ص:34، ط: المکتبة الأشرفیة)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jun 7, 2023 by Darul Ifta
...