136 views
قبرستان یا کسی مزار کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا:
(۸۴)سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کسی قبرستان یا کوئی خاص مزار کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا جائز ہے یا نہیں؟ مثلاً خواجہ معین الدین چشتیؒ کے مزار پر یا صابر کلیریؒ کے مزار پر اس نیت سے جانا کہ وہاں جا کر فاتحہ پڑھوں گا یا صرف زیارت کروں گا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ مع دلیل وضاحت فرمائیں۔
فقط: والسلام
المستفتی:محمد جاوید اسلم، لکھیم پور، متعلّم مدرسہ ہٰذا
asked Jun 5, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:اس کے لئے سفر کرنے میں شرعی قباحت نہیں ہے۔(۱) البتہ بزرگان دین کے جن مزارات پر اہل بدعت کا تسلط ہے اور وہاں بدعات وخرافات انجام دی جاتی ہوں وہاں زیارت کے لئے نہ جانا چاہئے، بلکہ اپنے مقام پر رہ کر ہی ایصال ثواب پر اکتفا کرنا چاہئے۔(۲)

(۱) ذہب بعض العلماء إلی الاستدلال بہ علی المنع من الرحلۃ لزیارۃ المشاہد وقبور العلماء والصالحین، وما تبین في أن الأمر کذلک، بل الزیارۃ مأمور بہا لخبر: (کنت نہیتکم عن زیارۃ القبور ألا فزوروہا)۔ والحدیث إنما ورد نہیا عن الشد لغیر الثلاثۃ من المساجد لتماثلہا، بل لا بلد إلا وفیہا مسجد، فلا معنی للرحلۃ إلی مسجد آخر، وأما المشاہد فلا تساوي بل برکۃ زیارتہا علی قدر درجاتہم عند اللّٰہ۔ (ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح، ’’کتاب الصلاۃ: باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ‘‘: ج ۲، ص: ۵۸۹، رقم: ۶۹۳)
عن أبی ہریرۃ، قال: زار النبي صلی النبي صلی اللّٰہ علیہ و سلم قبر أمہ فبکی وأبکی من حولہ فقال استأذنت ربي في أن أستغفر لہا فلم یؤذن لي واستأذنتہ في أن أزور قبرہا فأذن لي فزوروا القبور فإنہا تذکر الموت۔ (أخرجہ المسلم، في صحیحہ، ’’کتاب الجنائز: فصل جواز زیارۃ قبور المشرکین ومنہ الاستغفار لہم‘‘: ج ۱، ص: ۳۱۴، رقم: ۹۷۶)
(۲) وأما أہل السنۃ والجماعۃ فیقولون في کل فعل وقول لم یثبت عن الصحابۃ رضي اللّٰہ عنہم ہو بدعۃ لأنہ لو کان خیراً لسبقونا إلیہ، لأنہم لم یترکوا خصلۃ من خصال الخیر إلا وقد بادروا إلیہا۔ (ابن کثیر، تفسیر ابن کثیر، ’’سورۃ الأحقاف: ۱۰-۱۴‘‘: ج ۷، ص: ۲۵۶)

 

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص385

answered Jun 5, 2023 by Darul Ifta
...