159 views
تدفین کے بعد قبر پر اذان دینا:
(۸۸)سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں: مُردے کے دفن کرنے کے بعد اس کی قبر پر اذان دے سکتے ہیں یا نہیں؟ جمشیدپور میں بعض حضرات اس مسئلے میں الجھے ہوئے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ اذان دینا جائز ہے۔ اگریہ جائز ہے تو مدلل جواب دیں۔
فقط: والسلام
المستفتی: جعفر خان، جمشیدپور
asked Jun 5, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:اصولِ شریعت کی کتابوں میں جن مقامات اور صورتوں میں اذان کی اجازت دی گئی ہے، ان میں قبر پر اذان کے متعلق نہ جواز منقول ہے اور نہ استحباب منقول ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرامؓ وتابعین عظامؒ نے کبھی قبر پر اذان نہیں دی، اگر اس عمل (قبر پر اذان) میں ذرا سی بھی کوئی نیکی یا بھلائی ہوتی، تو وہ حضرات ضرور بالضرور اس عمل کو انجام دیتے، پس یہ عمل اور اس کا التزام بدعت ہی کہلائے گا،(۱) اور اس کا ترک کرنا ہرمسلمان پر لازم اور ضروری ہوجائے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرامؓ کے خلاف کوئی راستہ اختیار کرنا کھلی ہوئی بدعت اور گمراہی ہے۔(۲)
بقول شیخ سعدی علیہ الرحمہ:
خلاف پیمبر کسے رہ گزید
کہ ہر گز بمنزل نخواہد رسید

(۱) لا یسن الأذان عند إدخال المیت في قبرہ کما ہو المعتاد الأٰن وقد صرح ابن حجر في فتاویہ بأنہ بدعۃ۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن المیت‘‘: ج ۳، ص: ۱۴۱)
(۲) عن عائشۃ -رضي اللّٰہ عنہا-، قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من أحدث في أمرنا ہذا ما لیس منہ فہو رد۔ (أخرجہ مسلم، في صحیحہ، ’’کتاب الأقضیۃ: باب نقض الأحکام‘‘: ج ۲، ص: ۷۷، رقم: ۱۷۱۸)
ومن جملۃ ما أحدثوہ من البدع مع اعتقادہم أن ذلک من أکبر العبادات وأظہر الشعائر ما یفعلونہ في شہر ربیع الأول من المولد وقد احتوی علی بدع ومحرمات جملۃ۔ (موسوعۃ الرد علی الصوفیۃ، ’’البدع الحولیۃ‘‘: ج ۲۲، ص: ۱۹۳)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص391

answered Jun 5, 2023 by Darul Ifta
...